پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا بیان

گھی اور خوردنی تیل کی قیمت میں 23 اور 24 روپے اضافے کے بعد10 روپے پٹرول کی کمی عملاًواپس ہوچکی ہے

ایل پی جی اور گیس کی قیمت میں 16.37 فیصد اضافے کے بعد نام نہاد ریلیف ہوا میں تحلیل ہوچکا ہے

عوام کو ریلیف دینا ہے تو پی ڈی ایل اور بجلی کی قیمتوں میں ماہانہ 4 روپے سے زائد اضافہ واپس لینے کا اعلان کیاجائے

خدشہ ہے کہ 10 روپے کا سیاسی ریلیف آنے والے دنوں میں ہر شہری کو سینکڑوں روپے مہنگائی کی صورت ادا نہ کرنا پڑ جائے

جھوٹے حکومتی پیکجز کا بوجھ بھی عوام کو اٹھانا پڑے گا

تین سال میں موجودہ حکومت نے گندم، آٹے، چینی، بجلی کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ کیا، تاریخ میں کبھی اتنا اضافہ نہیں ہوا

تحریک عدم اعتماد مہنگائی کے ستائے عوام کے لئے اصل ریلیف ثابت ہوگی ، ایک طرف مہنگائی کے ستائے عوام اور دوسری طرف لٹیرے حکمران ہیں

ملک میں پٹرولیم بحران کی دہائیاں جاری ہیں، گندم، چینی اور ایل این جی کی طرح حکومت پٹرولیم بحران پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہے

ملکی تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر82 فیصد ہوگیا ، گردشی قرض میں 114 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے

تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر معیشت کی تباہ حالی کا بیان ہے ، اس خسارے کی قیمت کو ن ادا کرے گا؟

امپورٹ بل میں 55 فیصد اضافہ ہوا، آٹھ ماہ سے مسلسل تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے

سات ماہ میں توانائی کے شعبے کا گردشی قرض 2.358 ٹریلین کی تاریخی سطح پر پہنچ چکا ہے، یہ رقم کون ادا کرے گا؟

سوال یہ ہے کہ ان خساروں کے لئے رقم کہاں سے آئے گی؟ کیا عوام کو لوٹ کر پھر ادائیگیاں کی جائیں گی؟

رواں مالی سال میں تاریخ کا بلند ترین تجارتی خسارہ ہونے جارہا ہے،یہ رقم کہاں سے آئے گی ؟

ٹیکس وصولی کا کریڈٹ ریکارڈ درآمدات کو جاتا ہے کیونکہ برآمدات کے مقابلے میں درآمدات دوگنا ہوچکی ہیں

دعوے کے مطابق ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں ہوا، سیلز ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، کسٹم ڈیوٹیوں کی مد میں اضافہ سے ٹیکس وصولی بڑھی

موجودہ حکومت کالی دولت والوں کے لئے جنت بن چکی ہے