Press Release

عمران صاحب براڈ شیٹ نے آپ ، نیب نیازی گٹھ جوڑ کا، آپ کے مشیروں اور پرویز مشرف کے احتساب کا منہ کالا کردیا ہے:مریم اورنگزیب

عمران صاحب براڈ شیٹ نے آپ ، نیب نیازی گٹھ جوڑ کا، آپ کے مشیروں اور پرویز مشرف کے احتساب کا منہ کالا کردیا ہے:مریم اورنگزیب

لیکن اب جو حساب آپ سے مانگا جارہا ہے، اس کا جواب دیں۔ براڈ شیٹ کو قومی خزانے سے پہلے کتنی رقم دی گئی؟

قوم جاننا چاہتی ہے کہ آپ نے قوم کے خزانے سے کتنے پیسے ادا کئے؟؟
، تحقیقات ہوں کہ مشرف نے کس قانون کے تحت چھ سو کروڑ صرف چھ ماہ پہلے رجسٹرہونے والی کمپنی کودئیے، صفر برآمدگی ہوئی

عمران صاحب کو براڈ شیٹ کے معاملے پر سابق آمر پرویز مشرف کے خلاف تحقیقات کا حکم دینا چاہئے تھا

عمران صاحب کو مشرف کے خلاف تحقیقات کی اجازت نہیں کیونکہ وہ محض ایک کٹھ پتلی اور پرویز مشرف کی موجودہ شکل ہیں

شہباز شریف کے خلاف برطانیہ کی ڈیفیڈ کے فنڈز میں خورد برد کا بے بنیاد الزام لگایا گیا تو اتوار والے دن برطانیہ کی حکومت نے اس کی تردید کی

شہباز شریف پر میٹرو ملتان میں بدعنوانی کاجھوٹا الزام لگایا گیا جس کی چین کی حکومت نے تردید کی

شہباز شریف کو بلایا آشیانہ میں اور گرفتار کر لیا صاف پانی کیس میں۔

یہ ہے اس سیاہ احتساب کی جھوٹ اور سیاسی انتقام پر مبنی سیاہ کہانی۔ جس میں صرف کاغذ لہرائے جاتے اور جھوٹ بولے جاتے ہیں

یہ کھیل گزشتہ بہتر سال سے منتخب وزرا اعظم کے خلاف کھیلاجارہا ہے، کبھی مشرف کی شکل میں تو کبھی عمران صاحب کی شکل میں

سلیکٹڈ وزیراعظم نے صبح صبح ٹویٹ کے ذریعے این آر او کی بھیک مانگی ہے

میڈیا اور سیاسی مخالفین کو واسطہ دیا کہ آئیں براڈ شیٹ پر بات کرتے ہیں

خدا کے لئے 400 ارب چینی، سوا 200 ارب آٹا، 122 ارب روپے کی ایل این جی، 500 ارب کی دوائی چوری کی کوئی بات نہ کرے

کوئی میرے 23 فارن فنڈنگ غیرقانونی اکاونٹس کی بات نہ کرے لیکن عمران صاحب ایسا نہیں ہوسکتا

نومبر 2014 سے دائر فارن فنڈنگ کی کوئی بات نہ کرے لیکن عمران صاحب ایسا نہیں ہوسکتا

آپ کی چوری اور ایک آمر کی منتخب وزیراعظم کے خلاف سازش کو اپنے این آر او کے لئے استعمال کریں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا پارٹی رہنما سینیٹر مصدق ملک کے ہمراہ پارلیمنٹ لاجز میں پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ( ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران صاحب براڈ شیٹ نے آپ ، نیب نیازی گٹھ جوڑ کا، آپ کے مشیروں اور پرویز مشرف کے احتساب کا منہ کالا کردیا ہے لیکن اب جو حساب آپ سے مانگا جارہا ہے، اس کا جواب دیں۔ براڈ شیٹ کو قومی خزانے سے پہلے کتنی رقم دی گئی؟ قوم جاننا چاہتی ہے کہ آپ نے قوم کے خزانے سے کتنے پیسے ادا کئے؟؟ قوم چاہتی ہے کہ ایک انکوائری ہو، تحقیقات ہوں کہ مشرف نے کس قانون کے تحت چھ سو کروڑ اس زمانے میں ایک ایسی کمپنی کو دئیے جس کی رجسٹریشن صرف چھ ماہ پہلے ہوئی تھی۔ صفر برآمدگی ہوئی جس کا اعتراف پرویز مشرف صاحب کرچکے ہیں۔ عمران صاحب کو براڈ شیٹ کے معاملے پر سابق آمر پرویز مشرف کے خلاف تحقیقات کا حکم دینا چاہئے تھا لیکن اس کی انہیں اجازت نہیں کیونکہ وہ محض ایک کٹھ پتلی اور پرویز مشرف کی موجودہ شکل ہیں۔ شہباز شریف کے خلاف برطانیہ کی ڈیفیڈ کے فنڈز میں خورد برد کا بے بنیاد الزام لگایا گیا تو اتوار والے دن برطانیہ کی حکومت نے اس کی تردید کی، شہباز شریف پر میٹرو ملتان میں بدعنوانی کاجھوٹا الزام لگایا گیا جس کی چین کی حکومت نے تردید کی۔ شہباز شریف کو بلایا آشیانہ میں اور گرفتار کر لیا صاف پانی کیس میں۔ یہ ہے اس سیاہ احتساب کی جھوٹ اور سیاسی انتقام پر مبنی سیاہ کہانی۔ جس میں صرف کاغذ لہرائے جاتے اور جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ یہ کھیل گزشتہ بہتر سال سے منتخب وزرا اعظم کے خلاف کھیلاجارہا ہے، کبھی مشرف کی شکل میں تو کبھی عمران صاحب کی شکل میں۔ پارٹی رہنما سینیٹر مصدق ملک کے ہمراہ پارلیمنٹ لاجز میں جبکہ ملک ابرار اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے صبح صبح ٹویٹ کے ذریعے این آر او کی بھیک مانگی ہے۔ میڈیا اور سیاسی مخالفین کو واسطہ دیا کہ آئیں براڈ شیٹ پر بات کرتے ہیں۔ خدا کے لئے 400 ارب چینی، سوا 200 ارب آٹا، 122 ارب روپے کی ایل این جی، 500 ارب کی دوائی چوری کی کوئی بات نہ کرے۔ کوئی میرے 23 فارن فنڈنگ غیرقانونی اکاونٹس کی بات نہ کرے لیکن عمران صاحب ایسا نہیں ہوسکتا۔ نومبر 2014 سے فارن فنڈنگ کی کوئی بات نہ کرے لیکن عمران صاحب ایسا نہیں ہوسکتا۔ آپ کی چوری اور ایک آمر کی منتخب وزیراعظم کے خلاف سازش کو اپنے این آر او کے لئے استعمال کریں۔ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب صبح بیدار ہوتے ہیں تو انہیں کوئٹہ میں بے گناہوں کی شہادت کی یاد نہیں آتی، آج صبح بیدار ہوتے ہیں تو آٹا، چینی، بجلی، گیس، دوائی، ایل این جی کی چوری یاد نہیں آتی، آج انہیں اپنی چوری بچانے کے لئے این آر او کی ضرورت ہے تو اس لئے براڈشیٹ کی یاد آجاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ زرا سی بھی شرم، حیا، احساس اور اخلاق ہو تو براڈ شیٹ نے ایک آمر اور آپ کے خلاف چارج شیٹ دی ہے۔ براڈ شیٹ نے اس فرسودہ نظام کا منہ کالا کیا ہے جو آمر اور نظام کو استعمال کرکے منتخب وزراءاعظم کے خلاف سازشیں ہوتی رہیں۔ ترجمان مسلم لیگ (ن) نے حقائق بیان کرتے ہوئے کہاکہ پرویز مشرف نے پاکستانی 600 کروڑ روپے ایک پرائیویٹ فرم کودئیے جو اس وقت چھ ماہ قبل رجسٹر ہوئی تھی۔ یہ سرمایہ ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے چھ سو کروڑ روپے دئیے کہ منتخب وزیراعظم نوازشریف کے خلاف مقدمات بنائے جائیں۔ سیاسی حریفوں کی ایک فہرست تیار کرکے اس کمپنی کو دی گئی۔ اس فہرست میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو ان کے وزیر بن گئے۔ پرویز مشرف نے ان کے نام فہرست سے نکلوادئیے۔ یہ پیسہ مشرف نے اپنی جیب سے نہیں دیاتھا۔یہ پاکستان کے ٹیکس دینے والے عوام کے پیسے سے دئیے گئے۔ اس وقت بھی نیب زادے بنے اور کچھ زدہ بنے۔ آج بھی نیب نیازی گٹھ جوڑ کی کہانی آپ کے سامنے ہے۔ نیب اور سرکاری دستاویزات میں لکھاگیا کہ اربوں کھربوں کی برآمدگی اور وصولی ہوگئی ہے۔ مشرف کو معلوم تھا کہ جعلسازی کرکے جھوٹ بول کر ایک چھ ماہ پہلے رجسٹر ہونے والی کمپنی کو ایک مخصوص فہرست دی ہے۔ وہ پچیس ملین ڈالر جو چار سو کروڑ روپیہ بنتا ہے، وہ براڈ شیٹ کو نہیں دئیے گئے کیونکہ وہ برآمدگی اور وصولی نہیں ہوئی تھی۔ جھوٹ بولا گیا تھا۔ چار سو کروڑ مشرف نے بھی نہیں دیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔ اس کے بعد پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے بھی یہ پیسہ نہیں دیا۔ ان کے دور میں بھی دعوی نہیں کیاگیا۔ لیکن عمران صاحب کے حکم پر شہزاد اکبر نے براڈ شیٹ سے مذاکرات کئے۔ شہزاد اکبر اس وقت کسی قانونی معاہدے کی موجودگی کے بغیر براڈ شیٹ سے مذاکرات کررہے ہیں۔ اگر مان لیں کہ وصولی ہوئی تو اس کے لئے پچیس ملین ڈالر یعنی چار سو کروڑ روپے ٹیکس کا سرمایہ براڈ شیٹ کمپنی کو دیا جو اس وقت ایک آمر نے قومی خزانے سے ادا کئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ مضحکہ خیز بیان اگر مان بھی لوں تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ان مذاکرات میں ایک جنرل بھی شامل تھاجس نے کہاکہ ہمیں اس میں سے کتنا حصہ دو گے۔ تو اس بیان کو بھی تھوڑی دیر کے لئے مان لیتے ہیں۔ براڈ شیٹ جو پہلے والی جس وصولی کا دعوی کررہا ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ پچیس ملین ڈالر کس سرکاری خزانے میں جمع ہوا؟ جو برآمدگی ہوئی وہ کس سرکاری خزانے میں جمع کرائی گئی؟ نیب کی فائیلوں کا پیٹ بھرنے کے لئے روزانہ جو اربوں روپے وصولی اور برآمدگی کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ بتایا جائے کہ کیا وہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کے کسی پرائیویٹ اکاونٹ میں جمع کرائے جارہے ہیں؟ یہ ریکوری کون سے سرکاری خزانے میں جمع ہوئی ہے؟ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب صبح بیدار ہوکر آپ کو سوال نہیں کرنے چاہئیں بلکہ آپ سے سوال ہونے چاہئیں۔ ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہاکہ مشرف کی باقیات 600 کروڑ کس قانون اور ضابطے کے تحت دئیے گئے؟ شہزاد اکبر کس مینڈیٹ پر اب یہ رقم دے رہے ہیں؟ براڈ شیٹ کمپنی نے بیان میں نیب اور شہزاد اکبر کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا۔ براڈ شیٹ نے کہاکہ شریف فیملی سے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ اس وقت جب نیب اور براڈ شیٹ کمپنی کا کوئی معاہدہ ہی نہیں ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شریف فیملی کیوں رابطہ کرے گی؟ مریم اورنگزیب نے کہاکہ یہ ترلے واسطے اس لئے کئے جارہے ہیں کیونکہ آج اس آمر مشرف نے چھ سو کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا، آج عمران صاحب نے چار سو کروڑ دئیے۔ کیونکہ آج بھی ایک آمر سوچ ملک پر مسلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر پچیس ملین ڈالر دیتے ہیں تو اس میں سے ہمیں پچاس فیصد حصہ دیا جائے۔ یہ مذاکرات کئے جارہے ہیں شہزاد اکبر صاحب۔ اس جعلسازی پر کتنا حصہ دیں گے؟ کتنا کمشن دیں گے؟ اس لئے دوبارہ براڈ شیٹ کا یہ راگ دوبارہ الاپا جارہا ہے۔ ناں، ناں عمران صاحب اب یہ ڈرامے دوبارہ نہیں کرنے دیں گے۔ قوم سوال پوچھ رہی ہے کہ براڈ شیٹ کو قومی خزانے سے پہلے کتنی رقم دی گئی؟ قوم جاننا چاہتی ہے کہ آپ نے قوم کے خزانے سے کتنے پیسے ادا کئے؟؟ قوم چاہتی ہے کہ ایک انکوائری اور تحقیقات ہوں کہ مشرف نے کس قانون کے تحت چھ سو کروڑ اس زمانے میں ایک ایسی کمپنی کو دئیے جس کی رجسٹریشن صرف چھ ماہ پہلے ہوئی تھی۔ صفر برآمدگی ہوئی جس کا اعتراف پرویز مشرف صاحب کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’وکٹم کارڈ‘ کی بات کی۔ عمران صاحب براڈ شیٹ نے آپ کا، نیب نیازی گٹھ جوڑ کا، آپ کے مشیروں اور پرویز مشرف کے احتساب کا منہ کالا کردیا ہے لیکن اب جو حساب آپ سے مانگا جارہا ہے، اس کا جواب دیں۔ جن سیاسی مخالفین کا آپ ذکر کررہے ہیں وہ اپنے خلاف سیاسی انتقام اور چالیس سال کا حساب دے رہے ہیں۔ اب آپ کو جواب دینا ہوگا۔ جن پر آپ نے جھوٹے الزام لگائے، نوازشریف سمیت وہ جواب دے چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا احتساب پر تالا نوازشریف نہیں لگایا، آپ نے لگایا ہے۔ نوازشریف نے سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ حساب ہونا چاہئے۔ آپ کی طرح نہیں کہ فارن فنڈنگ نومبر2014 سے التوا میں ہے، سٹیٹ بنک نے آپ کے 23 فارن فنڈنگ اکاونٹس پکڑ لئے اور آپ مفرور ہیں۔ جواب دینے سے بھاگ چکے ہیں۔ نومبر 2014 سے فارن فنڈنگ کیس جاری ہے لیکن اس میں فیصلہ آتا ہے اور نہ ہی تحقیقات مکمل ہوتی ہیں۔ این آر او آپ اپنے اور اپنے اے ٹی ایمز کے لئے مانگ رہے ہیں۔ جو آٹا چینی میں ڈاکہ ڈالا۔ تحقیقاتی کمشن میں وزیراعظم پیش ہوئے اور نہ ہی وزرا پیش ہوئے جن کے دستخطوں سے یہ ڈاکہ ڈالا گیا تھا۔ منی لانڈرنگ تو آپ کررہے ہیں۔ ملک پر 14000 ارب روپے کا تاریخی قرض لاد دیا۔ 400 ارب چینی، سوا 200 ارب آٹا، 122 ارب ایل این جی، 500 ارب دوائیوں میں منی لانڈر کیاگیا اور یہ تو ابھی ’ٹپ آف دی آئیس برگ‘ ہے عمران صاحب۔ یہ وہ کرپشن کے سکینڈلز ہیں جو اڑھائی سال میں قوم کے سامنے ہیں اور ایک کا بھی جواب نہیں۔ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر عمران صاحب این آر او کی تلاش میں ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ علیمہ باجی کی سلائی مشین اربوں روپے کے سالانہ کپڑے سیتی ہے، ایک سرکاری افسر پیزہ کی 52کمپنیاں بناتا ہے جو اس کرسی پر بیٹھ کر کرسی پر بیٹھ کر این آر او مانگ رہے ہیں۔ اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے یہ این آر او مانگا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف قوم کا پیسہ براڈ شیٹ کو گیا تو دوسری طرف پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔ اس شرمندگی کا کون حساب دے گا لیکن بے شرم لوگوں کو اس شرمندگی کا کیا احساس؟ جب دونوں ہاتھوں سے ملک اور قوم کو لوٹا جارہا ہو تو پھر شرم کیسی؟ یہ وہ سازشیں ہیں جو بہتر سال سے جاری ہیں، کبھی مشرف کی شکل میں تو کبھی عمران صاحب کی شکل میں۔ انہوں نے کہاکہ 23 فارن فنڈنگ اکاونٹس سے پیسے منگوا کر ملک کو لوٹا جارہا ہے۔ پہلے مشرف اور اب عمران صاحب کی شکل میں ملک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ بہتر سال کی سازشوں کا خمیازہ پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔ یہ وہ مافیا ہے جو سلیکٹڈ وزیراعظم کے دائیں بائیں بیٹھا ہے جن کے لئے این آر او کی بھیک مانگی جاتی ہے۔ براڈ شیٹ کا ٹویٹ عمران صاحب آپ کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ آپ کو تو مشرف کے خلاف تحقیقات کا حکم دینا چاہئے تھا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ چھ سو کروڑ اور چار سو کروڑ کی رقم سے ہسپتال، تعلیمی ادارے بن سکتے تھے۔ ہمارے سیاچن پر بیٹھے محافظوں کے لئے ضروری سامان خریدا جاسکتا تھا، ہمارے دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوسکتا تھا۔