Senator Mushahidullah speaks to the students on terrorism and govt’s Counter Terrorism policy

ملک میں دہشت گردی کی لہر 14 سال سے جاری ہے ۔ گزشتہ حکومتوں نے اس مسئلے کے مکمل اور مستقل حل کے لئے بیانات اور مذمت کے علاوہ ٹھوس اقدامات نہ کئے
1997 ءمیں دہشت گردی کے خلاف قانون منظور ہوا اور اب ملکی تاریخ میں پہلی بار مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے کاو ¿نٹر ٹیررازم پالیسی پیش کرنے جارہی ہے
دہشت گردی ایک قومی مسئلہ بن چکا عمران خان اس مسئلے پر غیر سنجیدہ طرز ِ سیاست اختیار کئے ہوئے ہیں
یہ کہنا نہایت ہی قابل ِ مذمت اور شرمناک ہے کہ بنوں حملے کے ذمہ دار وزیر اعظم نواز شریف ہیں
عمران خان ، نواز شریف کے خلاف سیاسی دشمنی سے ذاتی دشمنی پر اتر آئے
عمران خان قوم کو بتائیں کہ کیا انہیں خیبر پختونخوا کی حکومت بھی 11مئی کو ہونے والی تاریخی دھاندلی کے نتیجے میں ملی؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی لہر 14 سال سے جاری ہے ۔ گزشتہ حکومتوں نے اس مسئلے کے مکمل اور مستقل حل کے لئے بیانات اور مذمت کے علاوہ ٹھوس اقدامات نہ کئے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مسلم لیگ (ن) ہی کے دور 1997 ءمیں دہشت گردی کے خلاف قانون منظور ہوا اور اب ملکی تاریخ میں پہلی بار مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے کاو ¿نٹر ٹیررازم پالیسی پیش کرنے جارہی ہے جو کہ کابینہ کی منظوری کے بعد ملک کی سیاسی قیادت کے سامنے پیش کر دی جائے گی اور جلد ہی اس کے نتیجے میں قانون سازی کا آغاز ہوجائے گا۔ مشاہد اللہ خان نے ان خیالات کا اظہارمسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں راولپنڈی اور اسلام آباد سے آئے طلباءکے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ بن چکا عمران خان اس مسئلے پر غیر سنجیدہ طرز ِ سیاست اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ہم دہشت گردی کے مسئلے پر قوم کو متحد اور یکجا کر کے دور رس کی اثرات کی حاصل پالیسیاں تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کے بیانات قومی وحدت اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ کہنا نہایت ہی قابل ِ مذمت اور شرمناک ہے کہ بنوں حملے کے ذمہ دار وزیر اعظم نواز شریف ہیں۔ عمران خان ، نواز شریف کے خلاف سیاسی دشمنی سے ذاتی دشمنی پر اتر آئے ۔ ان کے حالیہ بیانات ان کی بوکھلاہٹ ظاہر کر رہے ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف قوم کو متحد اور یکجا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ عمران خان اس مسئلے پر منفی اور اینٹی نواز شریف سیاست کر کے قوم کو ذہنی طور پر کنفیوز اور منتشر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کا شور و غاغا کرنے والے کسی ایک حلقے میں بھی دھاندلی تو درکنار 200 ووٹ مسترد تک نہ کر وا سکے۔ لیکن ایک صوبے میں حکومت قائم کر لینے کے بعد بھی ان کی سیاست نواز دشمنی اور دھاندلی کے گرد گھوم رہی ہے ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ عمران خان قوم کو بتائیں کہ کیا انہیں خیبر پختونخوا کی حکومت بھی 11مئی کو ہونے والی تاریخی دھاندلی کے نتیجے میں ملی؟