PTI and Qadri cost irreparable loss to the country.

عمران اور قادری کے دھرنوں سے قومی معیشت کو مجموعی طور پر 8ارب سے زیادہ کا ٹیکہ لگ چکا ۔سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان اور قادری نے جتنا نقصان پہنچایا ہمار دشمن بھی اس کا نہیں سوچ سکتا تھا۔
چین کے صدر نے قرضے نہیں پاکستان کے لئے 35ارب ڈالر ز کی سرمایہ کاری اور 10ہزار میگا واٹ کے بجلی کے منصوبوں کا افتتاح کرنا تھا۔
عمران خان کا یہ کہنا گمراہ کن اور غلط بیانی ہے کہ چین کے صدر نے ہمارے لئے قرضوں کا علان کرنا تھا ۔ مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ عمران اور قادری کے دھرنوں سے قومی معیشت کو مجموعی طور پر 8ارب سے زیادہ کا ٹیکہ لگ چکا ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کا یہ کہنا گمراہ کن اور غلط بیانی ہے کہ چین کے صدر نے ہمارے لئے قرضوں کا علان کرنا تھا ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ چین کے صدر نے قرضے نہیں پاکستان کے لئے 35ارب ڈالر ز کی سرمایہ کاری اور 10ہزار میگا واٹ کے بجلی کے منصوبوں کا افتتاح کرنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ دھرنوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان اور قادری نے جتنا نقصان پہنچایا ہمار دشمن بھی اس کا نہیں سوچ سکتا تھا۔ عمران خان اور قادری انسانیت کے ناطے سیلاب زدگان کی مدد کو نکلیں ۔ انھوں نے کہا کہ دھرنے اور تقریریں عوام میں پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عوام ملک کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان اُن پاکستانیوں کا حق بھی تسلیم کریں جنہوں نے عام انتخابات میں اپنا ووٹ دوسری جماعتوں کے حق میں استعمال کیا ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اس بات پر ہے کہ عمران خان صبر سے کام لے کر عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کا انتظار کرتے ہیں یا نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس سنہرا موقع ہے کہ وہ عام انتخابات میں ہونے والی کوتاہیوں کی نشان دہی کریں اور دھاندلی کے ثبوت جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش کریں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کو ثابت کرنا ہے کہ 35پنکچروں والی بات حقیقت تھی یا محض الزام۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو عمران اور قادری کی تقریروں اور دعوو ¿ں سے دلچسپی نہیں رہی ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ دھرنے ختم کر کے خیبر کے پی میں عوام کی خدمت کے منصوبے تشکیل دیں تاکہ نیا پاکستان کے نعرے کو حقیقت کا رنگ دے سکیں ۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو اب تک کہیں کوئی نیا پاکستان نہیں دکھائی دے رہا۔