Prime Minister Mohammad Nawaz Sharif in General Assembly.

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا اقوام ِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

٭ جمہوریت کو مستقل نگرانی اور مضبوط ادارے درکار ہوتے ہیں۔
٭ گڈ گورنینس حکومت چلانے کے لئے اہم ہے ۔
٭ پاکستان میں آزاد عدلیہ
٭ امن اور سلامتی میری حکومت کا نصب العین ہے ۔
٭ اقوام ِ متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے ۔
٭ سلامتی کونسل کو مزید جمہوری بنانا ہوگا۔
٭ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتا ہے ۔
٭ پاکستان میں متحرک میڈیا اور مضبوط پارلیمنٹ موجود ہے ۔
٭ کشمیریوں کی آواز سنی جانی چاہیے۔
٭ اقوم ِ متحدہ کو مسئلہ کشمیر کو دیکھنا چاہیے ۔
٭ بھارت کے ساتھ با مقصد اور ٹھوس مذاکرات کے لئے ہر وقت تیار ہیں ۔
٭ کشمیریوں کا حق خود رائے دہی کچلا نہیں جاسکتا۔ اقوم ِ متحدہ جموں کشمیر کے مسئلے پر توجہ جاری رکھے۔
٭ ہم ایک پرامن مستحکم اور مضبوط افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں کوئی ہمارا پسندیدہ نہیں ہے۔
٭ امریکہ سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ڈرون حملے ملک میں جوابی رد ِ عمل پیدا کرتے ہیں۔
٭ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملے بین الاقومی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ ڈرون طیارے پاکستان سے شدت پسندی کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں۔
٭ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی حیثیت سے ہم تحقیف اسلحہ کی پالیسی کی حمایت کرتے رہیں گے ۔
٭ ہمیں امید ہے کہ فلسطین کو 1967کی سرحدوں کے مطابق ریاست بنایا جائے گا۔ ایسی فلسطینی ریاست کے حامی ہیں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
٭ شام کے معاملے پر امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
٭ پشاور حملے نے ہمارے اس عزم کو مزید تقویت دی کہ ہم دہشت گردی کامقابلہ پوری طاقت سے کریں گے۔
٭ ہم عالمی برادری سے امدا د نہیں زیادہ تجارت چاہتے ہیں۔