PMLN rejects statement of Leaded of the opposition..

مشرف کو این آر او کے بدلے میں گارڈ آ ف آنر دے کر رخصت کرنے والوں کے منہ سے مشرف کی پیشی کے معاملے پر موجودہ حکومت پر تنقید زیب نہیں دیتی
ہم نے مشرف پر مقدمے کا آغاز کیا، محض زبانی تڑکے لگانا ہمارا نہیں کسی اور کا وطیرہ ہے
اپوزیشن لیڈر قوم کو گمراہ کر کے اپنا امیج بہتر کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں
بیان بازی سے گناہوں کا ازالہ کرنے کی بجائے عوام کو سچ بتا دیں کہ اپنے 5 سالہ دور حکومت میں پی پی پی نے مشرف کے خلاف چپ کیوں سادھے رکھی؟
جنہوں نے اپنی شہید قائد کے قتل کو بھلا ڈالا عوام ان پر اعتبار نہیں کر سکتے
ہم عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑانے والے نہیں جیسا پی پی پی نے 5 سال کے دوران کیا
اپوزیشن لیڈر قوم کو گمراہ کر کے اپنا امیج بہتر کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خانے کہا ہے کہ مشرف کو این آر او کے بدلے میں گارڈ آ ف آنر دے کر رخصت کرنے والوں کے منہ سے مشرف کی پیشی کے معاملے پر موجودہ حکومت پر تنقید زیب نہیں دیتی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے مشرف پر مقدمے کا آغاز کیا، محض زبانی تڑکے لگانا ہمارا نہیں کسی اور کا وطیرہ ہے۔ مشاہد اللہ خان نے ان خیالات کا اظہار اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے مشرف کے حوالے سے دیئے گئے بیان کے ردعمل میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ معاملہ عدالت میں ہو اور حکومت کسی ملزم کو زبردستی سے اٹھا کر عدالت میں جبراً پیش کر دے۔ معاملہ حکومت نہیں عدالت کے پاس ہے۔ حکومت کا کام صرف عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ جب گرفتاری کا حکم ہوگا مشرف کو گرفتار بھی کیا جائے گا۔ ہم عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑانے والے نہیں جیسا پی پی پی نے 5 سال کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قوم کو گمراہ کر کے اپنا امیج بہتر کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ بیان بازی سے گناہوں کا ازالہ کرنے کی بجائے عوام کو سچ بتا دیں کہ اپنے 5 سالہ دور حکومت میں پی پی پی نے مشرف کے خلاف چپ کیوں سادھے رکھی؟ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ جنہوں نے اپنی شہید قائد کے قتل کو بھلا ڈالا عوام ان پر اعتبار نہیں کر سکتے۔