PMLN rejects Qadri’s allegations of Nawaz’s forced acquittal from NaB cases

نوازشریف کے اقتدار میں آنے کے نتیجے میں 243نیب کیسز کے خاتمے کا بیان سفید جھوٹ اور شرانگیزہے ۔سینیٹر مشاہدا للہ خان
نواز شریف اور شریف خاندان پر جھوٹے مقدمات عمران اور قادری کے پیشوا جنرل مشرف نے قائم کئے۔ سینیٹر مشاہدا للہ خان
عمران اور قادری دونوں کو جمہوری نظام کے خاتمے کا جو مشن سونپا گیا تھا وہ ناکام ہو چکا ۔سینیٹر مشاہد اللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ نوازشریف کے اقتدار میں آنے کے نتیجے میں 243نیب کیسز کے خاتمے کا بیان سفید جھوٹ اور شرانگیزہے ۔ انھوں نے کہا کہ نوازشریف اور ان کے اہلِ خانہ پر جتنے بھی جھوٹے کیسز قائم کئے گئے ان کا سامنا عدالتوں میںکیا گیا۔ مشاہدا للہ خان نے کہا کہ نواز شریف اور شریف خاندان پر جھوٹے مقدمات عمران اور قادری کے پیشوا جنرل مشرف نے قائم کئے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایک مقدمہ بھی درست ہوتا تو مشرف اور اس کے ہم نوا جج نوازشریف کو نہ چھوڑتے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ مشرف نے نوازشریف کے خلاف جھوٹے مقدمات کو درست ثابت کرنے کے لئے اربوں روپے خرچ کئے لیکن اللہ نے انہیں ایک ایک مقدمے میں سرخرو کیا اور مشرف کے ہاتھ کچھ نہ آیا ۔ انھوں نے کہا کہ آج بھی نوازشریف کا سب سے بڑا جرم مشرف کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنا ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ طاہرا لقادری قرآن سامنے رکھ کر غلط بیانی کرتے ہیں ۔ اللہ اور رسول کے نام کی مالا جاپنے والے شخص کے منہ سے جھوٹ نہیں جچتا ۔ انھوں نے کہا کہ سیاست اور سیاست دانوں کو بدنام کرنے کا عمل جمہوریت سے لوگوں کا اعتماد ختم کرنے کی سازش ہے۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران اور قادری دونوں کو جمہوری نظام کے خاتمے کا جو مشن سونپا گیا تھا وہ ناکام ہو چکا ۔ انھوں نے کہا کہ جتناعرصہ دھرنے اور جھوٹی بیان بازی میں ضائع کیا گیا اس کے دوران یہ چاہتے تو تمام الزامات کی تحقیقات کر وا لیتے ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ حکومت عمران خان اور طاہر القادری کے ایک ایک الزام کی تحقیقات کروانا چاہتی ۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ دونوں حضرات اپنے لگائے گئے الزامات کو درست سمجھتے ہیں تو اِنہیں چاہئے متعلقہ اداروں کے سامنے پیش ہو کر ثبوت پیش کر یں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی ہی ان کا مسئلہ تھا تو یہ سب حکومت بھی کرنا چاہتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان اور طاہرالقادری انتخابی عمل کو شفاف بنانے میں مخلص نہیں ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ چین کے صدر کے دورے کو روک کر پاکستان کو ترقی اور دفاع کے بیشتر مواقعوں سے محروم کر دیا گیا ۔ انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ماہرین دھرنوں کو معیشت کے لئے سمِ قاتل قرار دے چکے۔