PMLN rebuts claims of those speculating against peace talks

طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کی پیش گوئیاں کرنے والے ملک اور قوم کی خیر خوا ہ نہیں
طالبان سے مذاکرات کو بچگانہ کہنے والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کی خاطر پاکستان ، آئین اور اداروں کو موم کی ناک بنائے رکھا
جنہوں نے ملک کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیلا وہ اپنے انجام سے خوفزدہ ہو کر ہسپتال کے بستروں میں چھپے ہوئے ہیں
عوام چاہتی ہے کہ ملک میں امن و امان کو یقینی بنایا جائے اور آئین و قانون کے مجرموں کو کیفر کردار تک ضرور پہنچنا چاہیے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کو بچگانہ کہنے والے وہی ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کی خاطر پاکستان ، آئین اور اداروں کو موم کی ناک بنائے رکھا۔ انھوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کی پیش گوئیاں کرنے والے ملک اور قوم کی خیر خوا ہ نہیں ۔ پاکستان کو دہشت گردی کے عفریت سے بچانے کے لئے پوری قوم حکومت کی پشت پر کھڑی ہے ۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے گھر پر آنے والے پارٹی کارکنان کے وفود سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ملک مزید ایڈونچرازم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آمریت میں ہر مسئلے کا حل طاقت اور گولی سے نکالا جاتا ہے جبکہ جمہوریت میں مذاکرات اور برداشت سے کام لے کر معاملات کو مثبت سمت میں لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت قوم کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لئے قومی سیاست کے اعتماد اور اتفاق ِ رائے سے اقدامات کر رہی ہے ۔ معاشی ترقی کا خواب امن کی منزل کے حصول سے وابسطہ ہے ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ہماری نیت صاف اور معاملات کار میں شفافیت ہے کوئی بد ترین مخالف بھی ہمارے ارادوں اور اقدامات پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ جنہوں نے ملک کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیلا وہ اپنے انجام سے خوفزدہ ہو کر ہسپتال کے بستروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریکیوں میں دھکیلنے اور پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کروانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ مشاہد اللہ خان نے کہا عوام چاہتی ہے کہ ملک میں امن و امان کو یقینی بنایا جائے اور آئین و قانون کے مجرموں کو کیفر کردار تک ضرور پہنچنا چاہیے۔