PMLN on foreign policy of the govt

ماضی میں خارجہ پالیسی حکمرانوں کے ذاتی مفادات اور مصلحتوں کے تابع رہی
ہمارا موقف تمام قومی اور بین الاقوامی معاملات پر واضح اور دو ٹوک ہے
حکومت کی خارجہ پالیسی کا محور پاکستان کے سٹریٹجک اور معاشی مفادات کا تحفظ ہے
ماضی میں ڈرون حملوں پر دوغلی پالیسی اور دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا جاتا رہا
واضح موقف اختیار کر کے ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام ِ متحدہ اور اقوام ِ عالم کے سامنے اٹھایا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ ماضی میں خارجہ پالیسی حکمرانوں کے ذاتی مفادات اور مصلحتوں کے تابع رہی ۔ آج ہمارا موقف تمام قومی اور بین الاقوامی معاملات پر واضح اور دو ٹوک ہے ۔ ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی کا محور پاکستان کے سٹریٹجک اور معاشی مفادات کا تحفظ ہے ۔ مشاہد اللہ خان نے ان خیالات کا اظہار مرکزی سیکر ٹریٹ میں پارٹی کارکنان کے مختلف وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ آنے والے سالوں میں نوازشریف کے حالیہ دورہ امریکہ کے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ ماضی میں ڈرون حملوں پر دوغلی پالیسی اور دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا جاتا رہا نواز شریف نے اس کے برعکس اس مسئلے پر واضح موقف اختیار کر کے ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام ِ متحدہ اور اقوام ِ عالم کے سامنے اٹھایا اور ہمارے موقف کو ہرسطح پر پذیرائی ملی۔ امید کرتے ہیں کہ امریکہ ڈرون حملوں پر جاری اپنی پالیسی پرنظر کرے گا۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ہم نے امداد لینے کی بجائے تجارت کو فروغ دینے کی بات کی ہے عوام کو مسلم لیگ (ن) کی معاشی پالیسیوںکے ثمرات جلد ملنا شروع ہوجائیں گے ۔