PML-N leader Siddiq farooq’s press conference

گلگت بلتستان کی صورتحال پر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف کو آرڈینیٹر محمد صدیق الفاروق کی پریس کانفرنس کا متن

اسلام آباد(23اگست 2012ئ)

 وزیر امور کشمیر ، مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ، عید کے دن گلگت میں ہونے والے جانی نقصان اور شدید فرقہ وارانہ کشیدگی کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ اگر 27رمضان المبارک کو وادیئِ ناران میں لولوسر ٹاپ پر ہونے والے جانی نقصان پر گلگت بلتستان میں فوری اقدامات کئے جاتے تو جانی نقصان اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچا جا سکتا تھا۔ یہ باتیں مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف کو آرڈینیٹر محمد صدیق الفاروق نے جمعرات کو یہاں ایک نیوز کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر امور کشمیر ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور وفاقی وزیر داخلہ اس جانی نقصان اور کشیدگی کے اس لئے بھی براہ راست ذمہ دار ہیں کہ انہوں نے 24مئی 2012ءکو قانون ساز اسمبلی سے متفقہ طور پر پاس ہونے والے مسجد ریگولیشن ایکٹ پر عمل درآمد کرنے کےلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ۔ صدیق الفاروق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدرمحمد نواز شریف کو اس صورت حال پر گہری تشویش ہے اور انہوں نے گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمن کو اس حوالے سے خصوصی ہدایات دی ہےں ۔انہوں نے بتایا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کےلئے مسلم لیگ(ن) گلگت بلتستان نے جناب محمد نواز شریف کی رہنمائی اور حافظ حفیظ الرحمن کی قیادت میں بھرپور کردار ادا کیا ہے اور وہ اب بھی اس راستے پر گامزن ہے لیکن حکومت ان کاوشوں کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دے رہی ۔

ایک سوال کے جواب میں صدیق الفاروق نے کہا کہ وہ دو سال سے مسلسل وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان حکومت کی توجہ دہشت گردی سے نمٹنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی طرف دلا رہے ہیں لیکن نااہلی کی وجہ سے یا اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کےلئے پیپلز پارٹی کی مخلوط وفاقی اور گلگت بلتستان کی حکومتیں اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریوںکی طرف توجہ نہیں دے رہی۔انہوں نے کہا کہ اب تک 200قیمتی جانیں اس فرقہ وارانہ کشیدگی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ ان کے نزدیک انسانی جان سے زیادہ اپنی حکومت کو بچانا اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اہم ہے ۔ اور یہی وہ مجرمانہ رویہ ہے جس کی پاکستان اور گلگت بلتستان کی تمام سیاسی ، مذہبی اورسماجی طاقتوں کو نوٹس لینا ہے ۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان میں موجود پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے مزید احتیاط کا مظاہرہ کریں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کو شیعہ ، سنی ، اسماعیلی ، نوربخشی اور اہل حدیث سمیت تمام مکاتب فکر کا گھر سمجھتی ہے اور ان کے درمیان یگانگت کو فطری عمل سمجھتی ہے کیونکہ گلگت بلتستان کی ڈوگرہ راج سے آزادی میں تمام مکاتب فکر نے کامل یکجہتی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق متحد ہو کر بھرپور کردار ادا کیا۔ اور ان تمام مکاتب فکر کے پیرو کار اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کے جان و مال کا تحفظ اور اقتصادی اور سماجی ترقی کے لئے ان کا اتحاد ناگزیر ہے ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر شرپسندوں نے گلگت بلتستان میں نو گو ایریاز بنا رکھے ہیں اور بدقسمتی سے وفاقی اور گلگت بلتستان کی حکومت اپنے مخصوص مفادات کی وجہ سے نو گو ایریاز ختم نہیں کر رہی ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت کی جغرافیائی اور سیاسی حساس حیثیت کے پیش نظر وہاں فوج ، ایف سی ، پولیس اور حساس اداروں کی بھاری تعداد بجا طور پر موجود ہے۔لیکن افسوس ہے کہ اس کے باوجود گلگت کےچند مربع کلومیٹر علاقے میں سے دہشت گردی ختم نہیں کی جا سکی۔

 
— PRESS RELEASE

PML-N holds Ministers for Kashmir & Interior  and CM GB responsible for killings and sectarian tension in GB; GB Govt took no action against No go areas for its vested interests: Siddiqul Farooq

ISLAMABAD, Aug 23: Pakistan Muslim League(Nawaz) has held Ministers for Kashmir Affairs, Interior and Chief Minister Gilgit-Baltistan responsible for killing of innocent people and sectarian tension in Gilgit-Baltistan on the event of Eid ul Fitr. Addressing a press conference here on Thursday, PML-N’s Chief Coordinator for Gilgit-Baltistan and Azad Kashmir Mohammad Siddiqul Farooq said if immediate remedial measures had been taken after the Lalusar top incident, additional losses and sectarian tension could have been avoided.

He accused the Kashmir Affairs Minister and Chief Minister,Gilgit-Baltistan for not taking steps for implementation of the Mosque Regulation Act adopted with consensus by the Legislative Assembly on 24th May, 2012.

He said the PML-N President Nawaz Sharif was seriously concerned over the deteriorating situation in the area and has issued special directon to GB President of the Party Hafiz Hafeezur Rehman.  He pointed out that on the direction of Mian Nawaz Sharif, the PML-N has played special role for sectarian harmony in Gilgit-Baltistan. However he criticized the government for creating hurdles in the attempts of the PML-N to bring peace and order. In reply to a question, Siddiqul Farooq said he has been continuously drawing attention of the Ministry and the GB government  for dealing with terrorism and sectarian tension.  However due to its inefficiency or to divert attention of the people from its failures, the Federal and GB governments have not been paying attention towards their moral and constitutional obligations.

Siddiqul Farooq said so far 200 innocent people have lost their lives in sectarian tension but the local leadership was more interested in saving the government rather than the lives of the poor masses.  He said all the religio-political and social society must take notice of the criminal attitude of the provincial government.  He hoped that the print and electronic media would show greater responsibility in reporting the events in Gilgit-Baltistan.

To another question, the Chief Coordinator said the PML-N considers GB as collective home of Sunni, Shias, Ismailis, Noor Bakhshi and Ahle-e-Hadith and it was but natural that there must be harmony among them. He pointed out that all schools of thought played their collective role for independence from Dogra Raj. He said people of Gilgit-Baltistan believe that there was need for unity among them for economic and social development of the area.

In reply to yet another question, the Chief Coordinator said a handful of anti social elements have created  “ no go area” in Gilgit-Baltistan and due to its vested interests, the provincial government was not taking steps to eliminate these no go areas.

He said there is a heavy deployment of army, FC, police and intelligence agencies due to strategic location of the area but regretted that the menace of terrorism was not being rooted out in a few kilometer area.