New prime minister is not the solution; Says Anusha Rahman

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی انوشہ رحمان کی نیویارک میں پریس کانفرنس اور واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی امریکن کانگریس سے خطاب

 

نیویارک(سپیشل رپورٹر سے ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی انوشہ رحمان کا کہنا ہے کہ نئے وزیر اعظم کا انتخاب سیاسی بحران کاحل نہیں ہے۔نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو سوئس حکام کو خط لکھنا ہوگا کہ وہ آصف زرداری کے سوئس اکاو¿نٹس کے بارے میں دائر کیس سے دستبرداری والا خط واپس لیتے ہیں ورنہ انہیں بھی اپنے پیش رو یوسف رضا گیلانی کی طرح عدالتی احکامات سے روگردانی کے نتیجے کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) امریکہ کے صدر روحیل ڈار کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ پارٹی کے مقامی قائدین ڈاکٹر خالد لقمان ، میاں فیاض ، بیگم شکیل چوہدری ، رانا سعید، امتیاز وڑائچ، یٰسین بھٹی اور جاوید صدیقی بھی موجود تھے ۔ انوشہ رحمانن جو کہ پاکستانی امریکن کانگریس کے صدر ڈاکٹر خالد لقمان کی دعوت پر کانگریس کے سالانہ اجلاس میں خصوصی شرکت کے لئے امریکہ آئی تھیں ، نے پاکستان واپسی سے قبل کی جانیوالی اپنی پریس کانفرنس میں صدر زرداری کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر یہ تھا کہ وہ اس وقت کوئی نیا وزیر اعظم لانے کی بجائے ملک میں جنرل الیکشن کے انعقاد کا فیصلہ کرتے ۔الیکشن کمشنر کی تقرری سمیت دیگر حل طلب قومی امور کو اتفاق رائے سے طے کرتے تاکہ ملک ایک سیاسی استحکام کی جانب بڑھتا ۔ انہوں نے کہا کہ میرا نومنتخب وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے لئے بھی ایک مشور ہے کہ وہ سوئس حکام کو خط لکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ نئے وزیر اعظم سوئس حکام کو خط لکھیں گے یا نہیں لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ اگر وہ خط نہیں لکھیں گے تو وہ کس انجام سے دو چار ہونگے ۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت یکے بعد دیگرے وزراءاعظم کی قربانی دینے کی بجائے ملک کی لوٹی ہوئی دولت کا مسلہ حل کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلہ ایک چٹھی لکھنے کا نہیں بلکہ ان چھ سو کروڑ روپوں کا ہے کہ جو ملک سے لوٹ کر سوئس بنکوں میں رکھے گئے ۔ملک میں آئین ، قانون کا سہارا لیکر اس لوٹی لوئی دولت کو ہضم نہیں کیا جا سکتا۔ سابق دور میں ایک ملی بھگت کے تحت سوئس حکام کو غیر قانونی خط لکھ کر کیس کی تفتیش رکوا دی گئی ، وہ خط واپس لیا جانا چاہئیے تاکہ دودھ کا دودہ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ قبل ازیں انوشہ رحمان نے واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ پاکستانی امریکن کانگریس کے اجلاس میں اپنی شرکت اور اس اجلاس میں اعلیٰ امریکی حکام و ارکان کانگریس سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ اس لحاظ سے بہت کامیاب رہا ہے کہ امریکی ارلحکومت میں پالیسی و فیصلہ سازوں کو پاکستان کے داخلی و خارجی معاملات پر مسلم لیگ (ن) اور قائد میاں نواز شریف کی پوزیشن بیان کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ سمیت تمام عالمی ممالک سے ڈائیلاگ کی بنیاد پر تمام حل طلب امور طے کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہی آگے بڑھنے کا ایک بہترین طریقہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے امریکی ارکان کانگریس کو بھی واضح کیا کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کی نااہلی ، ملک میں آئین کی بالادستی کے قیام کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے ۔ انوشہ رحمان امریکہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس روانہ ہو گئیں۔ ائیرپورٹ پر انہیں لیگی ساتھیوں اور ان کے میزبان ڈاکٹر خالد لقمان ، بیگم شکیلہ چوہدری اور مسلم لیگ ن امریکہ کے صدر روحیل ڈار سمیت دیگر عہدیداروں نے الوداع کہا۔