Mushahidullah Khan speaks on Imran Khan and Qadri.

دھرنوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو 900ارب روپے کے خطیر نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ مشاہداللہ خان
کچھ لوگ ایڈونچر کی سیاست کو فروغ دے کر بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان سے اعتماد اٹھانا چاہتے ہیں ۔ سینیٹرمشاہداللہ خان
اپنے مستقبل سے مایوس بعض سیاستدان نہیں چاہتے کہ عمران خان اور طاہرالقادری گرداب سے نکل پائیں۔ مشاہداللہ خان
عمران خان اور طاہر القادری دوسروں پر انگلی اٹھانے کی بجائے دھرنے ختم کر کے پارلیمنٹ میں اپنے کردار کو یقینی بنائیں ۔ مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان اور طاہرالقادری معصوم بچوں اور بے گناہ خواتین کے حال پر رحم کریں اور انہیں گھروں میں جانے دیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ خواتین اوربچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا قطعاً درست نہیں ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ حکومت دونوں جماعتوں کے تما م آئینی مطالبات تسلیم کر چکی ، اب انہیں دھرنے ختم کردینا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ دھرنوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو 900ارب روپے کے خطیر نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ مشاہداللہ خان نے ان کا خیالات کا اظہار اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے ملاقات میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنا کسی محب وطن پاکستانی کا ایجنڈا نہیں ہوسکتا ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کچھ لوگ ایڈونچر کی سیاست کو فروغ دے کر بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان سے اعتماد اٹھانا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اپنے مستقبل سے مایوس بعض سیاستدان نہیں چاہتے کہ عمران خان اور طاہرالقادری گرداب سے نکل پائیں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران اور قادری کو حکومت کے ساتھ الجھا کر رکھنے والے وہی ہیں جنہیں مسلم لیگ (ن) نے قبول نہیں کیا ۔انھوں نے کہا کہ عمران خان سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی بنانے کی عادت ترک کریں ۔ سیاست میں رواداری ہی بہترین اور سازگار سیاسی فضا کی ضمانت ہوا کرتی ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ وزیر اعظم کے استعفیٰ دینے کا معاملہ ہماری انا نہیں بلکہ 19کروڑ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ کی بالادستی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاستدان یا گروہ پارلیمنٹ پر اپنا فیصلہ بزور مسلط نہیں کر سکتا۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عوام نے بھی عمران خان اور طاہرالقادری کے طرزعمل سے بیزاری کا زاظہار کردیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر دھرنوں نے پاکستان کا امیج بری طرح متاثر کیا ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ اگر موجودہ روش جاری رہی تو دنیا خدانخواستہ یہ سمجھنے لگے گی کہ شاید پاکستان میں کسی ادارے ، عدالتوں یا قانون کی کوئی عزت نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی انا کے قول سے نکل کر پاکستان کے مستقبل کی فکر کرنا ہوگی۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ الٹی میٹم کی سیاست سیاسی بڑھک بازی کے علاوہ کچھ نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری دوسروں پر انگلی اٹھانے کی بجائے دھرنے ختم کر کے پارلیمنٹ میں اپنے کردار کو یقینی بنائیں ۔ بے یقینی کے خاتمے کا واحد حل یہی ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ حکومت نے جس صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا دنیا میں شاید ہی اس کی مثال مل سکے ۔