Mushahidullah Khan rebuts PTI allegations.

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہدا للہ خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے مسلم لیگ (ن) پر افتخار چوہدری کو میدان میں اتارنے کا بیان سدید قابلِ مذمت اور اُنکی ذہنی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کی یہ عادت بن چکی ہے کہ وہ پہلے دوسروں کی ذات پر کیچڑ اچھالتے ہیں اور جب ان الزامات کا جواب دیا جائے تو وہ اسے اپنے خلاف (ن) لیگ کی سازش قرار دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس کوئی ایجنڈہے نہ کوئی حکمتِ عملی کہ اُنھیں جانا کس سمت ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر موجود ناپختہ ذہنوں نے اسے پاکستان تحریک انصاف کی بجائے پاکستان تحریک الزام بنا ڈالا ہے ۔ انھوں نے پی ٹی آئی کے رہنماو ¿ں سے درخواست کی ہے کہ خدارا سیاسی مخالفتوں کو ذاتی دشمنوں میں بدلنے کی روش کو ترک کر دیں۔ مشاہد اللہ خان نے کہاکہ تحریک انصاف کا سونامی ایک صوبے میں تبدیلی تو نہ لا سکا البتہ تحریک انصاف کے رہنماو ¿ں کے رویے کی وجہ سے ملک میں انتشار ، فساد اور الزامات کا سونامی یقینا ملکی منظر نامے پر چھائے رہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ ہو یا شارٹ مارچ عمران خان انتخابی جنگ سے لے کر اعصابی جنگ تک ہر محاذ پر ناکام ہوتے جارہے ہیں ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اگر تو واقعی میں عمران خان کا مقصد انتخابی نظام میں اصلاحات کرنا ہے تو پارلیمنٹ کی سطح پر قائم کردہ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپنے موثر کردار کو یقینی بنائیں ۔ جبکہ خود تحریک انصاف اس کمیٹی کا حصہ بن چکی ہے اب اس مقصد کے لئے لانگ مارچ کی گنجائش نہیں رہی۔ انھوں نے کہا کہ اس سب کچھ کے باوجو دبھی اگر عمران خان لانگ مارچ کرنے پر مُصر ہیں اور بقول ان کے کہ وہ اتنی آسانی سے واپس نہیں لوٹیں گے تو اس کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں لیا جاسکتا کہ صرف اور صرف دنگہ فساد کرکے ذاتی توجہ چاہتے ہیں ۔