Mushahidullah Khan on London plan and Cod.

میثاقِ جمہوریت کالندن پلان جیسے بدنامِ زمانہ معاہدے کے ساتھ تعلق جوڑنا ذہنی ناپختگی اور سیاسی بلوغت کا اظہار ہے۔سینیٹر مشاہداللہ خان
عوام ملک میں نفرت کے بیج بونے والے اور سیاست میں جھوٹ اور گالم گلوچ دینے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ سینیٹر مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ میثاقِ جمہوریت کالندن پلان جیسے بدنامِ زمانہ معاہدے کے ساتھ تعلق جوڑنا ذہنی ناپختگی اور سیاسی جہالت کا اظہار ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت ملک میںمثبت اور صحت مند جمہوری روایات کے فروغ اور جمہوریت کی مضبوطی کے لئے رہنما اصولوں کا تعین کرتا ہے جبکہ لندن پلان پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے ، سیاسی انتشار ، و افرا تفری پھیلانے منفی وغیر جمہوری رویوں کی حوصلہ افزائی اور جمہوری نظام کے خاطمے کے لئے تیار کیا گیا ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کی مقبول قیادتوں کے مابین مسلسل غورو خوض اور دونوں اطراف سے محب وطن اہل ِفکرو دانش کی مشاورت کے بعد طے پایا اور اس کا ایک ایک نقطہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا ۔ انھوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت پر ہونے والے مذاکرات اور اس کے تمام مراحل تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان کی تمام تر تفصیلات شروع سے لے کر اس کی دسخطی تقریب تک میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کی جاتی رہیں ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ لندن پلان شکست خوردہ سیاست دانوں ، پاکستان کے سیاسی و معاشی استحکام کے دشمنوں اور غیر ملکی طاقتوں کے ایما پر وجو د میں آیا جس کا ذکر پاکستان کے عوام ، میڈیا حتیٰ کہ ملک کے سیاستدانوں تک کے سامنے نہ کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ لندن پلان کا حصہ بننے والے سیاستدان بشمول عمران خان اور طاہر القادری مسلسل ایسے کسی معاہدے اور ایک دوسرے سے ملاقاتوں سے انکاری رہے اور اب جبکہ یہ شرمناک منصوبہ عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکاہے اس سے عوامی حقوق کے ضامن اور اس کی جدوجہد کے طور پر پیش کیا جا تا رہا ہے۔ ۔مشاہداللہ خان نے کہا اگر اس معاہدے کا واقعتا پاکستان کے عوام کی بہتری سے کوئی تعلق تھا تو خفیہ ملاقاتوں کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ملاقاتیں بھی کھلے عام کی جاتیں اور عوامی بہتری کے مشترکہ نکات بھی عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کئے جاتے ۔ انھوں نے کہا کہ آج ثابت ہوچکا ہے کہ مسئلہ نہ توعام انتخابات میں دھاندلی ہے اور نہ ہی کوئی انقلاب کسی کے پیشِ نظر ہے ۔ اصل حدف پاکستان میں ترقی کے عمل کو روکنا اور جمہوریت کا خاتمہ کرکے آمریت کی راہ ہموار کرنا ہے۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عوام ملک میں نفرت کے بیج بونے والے اور سیاست میں جھوٹ اور گالم گلوچ دینے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔