Mushahidullah Khan on Critics of PM Youth Loan Scheme.

وزیر اعظم بزنس یوتھ لون سکیم پر تنقید کرنے والے نوجوانوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں
کل تک جو عناصر لیپ ٹاپ اسکیم کو ہدف ِ تنقید بنا رہے تھے آج ان سے نوجوانوں کا فیصلہ سازی میں شرکت کرنا اور کاروبار کے ذریعے اپنے پاو ¿ں پر کھڑا ہونا ہضم نہیں ہورہا
بعض فرسودہ خیالات کے مالک یہ بات تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے کہ کہ اب پاکستان کی باگ ڈور نئی نسل کے ہاتھوں میں تھما دینے کا وقت آگیا ہے
مسلم لیگ (ن) نے قرض اسکیم پر خواتین کا 50فیصد کوٹہ مختص کرنا ویمن امپاورمنٹ کی جانب بڑا قدم اٹھایا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم بزنس یوتھ لون سکیم پر تنقید کرنے والے نوجوانوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں کل تک جو عناصر لیپ ٹاپ اسکیم کو ہدف ِ تنقید بنا رہے تھے آج ان سے نوجوانوں کا فیصلہ سازی میں شرکت کرنا اور کاروبار کے ذریعے اپنے پاو ¿ں پر کھڑا ہونا ہضم نہیں ہورہا۔ بعض فرسودہ خیالات کے مالک یہ بات تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے کہ کہ اب پاکستان کی باگ ڈور نئی نسل کے ہاتھوں میں تھما دینے کا وقت آگیا ہے ۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں صوبہ سندھ اور بلوچستان سے آئے ہوئے وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں میں کیا۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اگر نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں تو انہیں عملی میدان میں ہر طرح کے مواقع اور ساز گار ماحول کی فراہمی بھی بے حد ضروری ہے ۔ خواتین کو طاقتور بنانے کے دعویدار وںنے انہیں سماجی ، معاشی اور معاشرتی تحفظ دینے کے لئے ایک بھی ٹھوس قدم اٹھایا اور نہ ہی کوئی عملی تجاویز دیں ۔ مسلم لیگ (ن) نے قرض اسکیم پر خواتین کا 50فیصد کوٹہ مختص کرنا ویمن امپاورمنٹ کی جانب بڑا قدم اٹھایا ۔ خواتین کے لئے 50فیصد کوٹہ مختص کرکے انہیں معاشرے اور ملک کی ترقی میں براہِ راست شریک کرنے کے بے شمار مواقع میسر آئیں گے ۔ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں شرکت سے نہ صرف معاشی مسائل پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ چھوٹی اور گھریلو صنعت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ قرض اسکیم کے اجرا سے پہلے ہی ناکامی کی پیش گوئیاں کرنے والے لاکھوں درخواست کنندگان کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں۔ تنقید کرنے والے اپنے صوبوں میں ہی عوام کی دلچسپی کا عالم دیکھ لیں۔ عوامی فلاح اور بہتری کے منصوبوں پر بلا جواز تنقید جمہوریت کی خدمت نہیں۔