Mushahidullah Khan answers queries of youth and media men in a special session

جو خود گذشتہ 15سال سے حکومتوں کی لوٹ کھسوٹ ، بدانتظامیوں اور غلط پالیسیوں کا حصہ رہے آج ہم پر تنقید کر رہے ہیں
غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو مخدوش اور غیر ریاستی عناصر کو پنپنے کا موقع ملا
حکومت نے ابتر حالات کے باوجود قلیل ترین مدت میں بین الاقوامی اداروں کا اعتماد بحال کیا ہے
حکومت کچھ ہی دنوں میں دہشت گردوں سے متاثرہ علاقوں کے لئے مزید نئے اور جامع منصوبوں کا بھی آغاز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہ ہے کہ بھیانک مستقبل کی پیش گوئیاں کرنے والے ملک اور عوام کے خیر خواہ نہیں ۔ حکومت سنجیدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ امن و امان کے قیام اور معیشت کی بحالی کے لئے کوشاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو خود گذشتہ 15سال سے حکومتوں کی لوٹ کھسوٹ ، بدانتظامیوں اور غلط پالیسیوں کا حصہ رہے آج ہم پر تنقید کر رہے ہیں۔ دہشت گردی اور بد حال معیشت ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں ۔ دونوں کو ٹھیک کرنے کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبوں پر عمل شروع کردیا گیا ہے ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو مخدوش اور غیر ریاستی عناصر کو پنپنے کا موقع ملا۔ گزشتہ 15سالوں میں نہ دہشت گردی کے عفریت سے مستقل چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کوئی پالیسی وضع کی گئی اور نہ ہی عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے کوئی تدبیر اختیار کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ایک طرف ملک اور عوام دشمنی عناصر کی دہشت گردی کا چیلنج درپیش ہے تو دوسری طرف ملک کے انتظامی ڈھانچے کی از سرِ نو تشکیل کا مرحلہ درپیش ہے ۔ حکومت نے ابتر حالات کے باوجود قلیل ترین مدت میں بین الاقوامی اداروں کا اعتماد بحال کیا ہے ۔ عالمی ادارے اور بین الاقوامی ماہرین ِ معاشیات اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں چل پڑی ہے ۔ مشاہد اللہ خان نے ان خیالات کا اظہار اپنی رہائش گاہ پر بعض صحافیوں اور پارٹی کارکنان کے ساتھ سوال و جواب کی خصوصی نشست کے دوران کیا۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کچھ ہی دنوں میں ایک لاکھ نوجوانوں کو سرمایہ کاری کرنے کے لئے شفاف عمل کے نتیجے میں کاروبار کے لئے آسان ترین شرائط پر قرضہ دینے کے عمل کا آغاز ہوجائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم نے واویلا مچانے کی بجائے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے ۔ قبائلی علاقہ جات اور فاٹا کے نوجوانوں کو قرض کی رقوم کی ادائیگی سے انہیں ملکی دھارے میں شامل کر کے دشمن عناصر کی سازشوں کو شکست ہوگی۔ حکومت کچھ ہی دنوں میں دہشت گردوں سے متاثرہ علاقوں کے لئے مزید نئے اور جامع منصوبوں کا بھی آغاز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو پسپا کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور کی بیداری اور ان کے ملکی اداروں پر اعتماد کی بحالی ازحد ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے وزیر اعظم اوروفاقی وزیر داخلہ پر بزدلی کے الزامات نہایت ہی لغو اور بے بنیاد ہیں ۔ الزامات لگانے والے اور بڑھکیں مارنے والے اگر سنجیدہ ہوتے تو آج دہشت گردی اس انتہا پر نہ پہنچ پاتی۔ اس سے زیادہ قابل مذمت ، بزدلی اور بے شرمی کی انتہا کیا ہوسکتی ہے کہ ہمیں بزدلی کا طعنہ دینے والوں نے آج تک اپنی شہید قائد محترمہ بےنظیر بھٹو کے مقدمے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک بھی سنجیدہ اقدام نہ کیا اور آج بھی وہ مقدمہ وہیں ہے جہاں سے 7سال قبل اس کا آغاز کیا گیا تھا۔