Mushahid Ullah Khan’s reaction on PM Gillani’s speech in N.A

وزیراعظم نے اپنے قومی اسمبلی کے خطاب کے دوران ایک بارپھراعلی عدالتوں کی حیثیت کو چیلنج کیاہے ۔مشاہداللہ خان

حکمران پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کومحض اپنی ذاتی خواہشات کے تابع رکھنا چاہتے ہیں ،یہی رویہ عوام کومسلسل پارلیمنٹ سے بدزن کرتاجارہاہے اورعوام نے 2008ءمیں جو امیدیں وابستہ کی تھیں آج عوام پارلیمنٹ سے ماےوس ہوچکے ہیں ۔

آج وہ ایک متفقہ نہیں بلکہ ایک متنازعہ اورمجرم وزیراعظم ہیں،انہیں چاہیے کہ وہ اعلی اخلاقی اقدارکامظاہرہ کرتے ہوئے ےاتو رضاکارانہ طورپراپنے عہدے سے الگ ہوجائیں ےاپھر عوام میں دوبارہ اپنی اکثریت ثابت کرنے کےلئے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ہمت پیداکریں ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان مسلم لیگ(ن)
(        )
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹرمشاہداللہ خان نے کہاہے کہ وزیراعظم نے اپنے قومی اسمبلی کے خطاب کے دوران ایک بارپھراعلی عدالتوں کی حیثیت کو چیلنج کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اوران کی جماعت ادارو ںکو کہیں تو لوٹ کھسوٹ کرکے تباہی کے دھانے پرلے جاچکی ہیں اورکہیں ان اداروں کی حثیت کو کومتنازعہ بناکرانہیں تباہ کرنا چاہ رہے ہیں ۔مشاہداللہ خان نے کہاکہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنااورملک اورعوام کی بہتری کےلئے پالیسیاں مرتب کرناہے لیکن حکمران پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کومحض اپنی ذاتی خواہشات کے تابع رکھنا چاہتے ہیں ،یہی رویہ عوام کومسلسل پارلیمنٹ سے بدزن کرتاجارہاہے اورعوام نے 2008ءمیں جو امیدیں وابستہ کی تھیں آج عوام پارلیمنٹ سے ماےوس ہوچکے ہیں ۔مشاہداللہ خان نے کہاکہ انصاف دلانااورانصاف دیناعدالتوں کاکام ہے نہ کہ پارلیمنٹ کا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے اپنے بیان کے ذریعے خودپارلیمنٹ کوبھی متنازعہ کردیاہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) محض اکثریت کے بل بوتے پرحکمرانوں کی من مانیاں تسلیم نہیں کرے گی اوراعلی عدالتوں کے وقارکوداﺅ پرنہیں لگنادیاجائے گا۔مشاہداللہ خان نے کہاکہ ایک طرف وزیراعظم اورانکی کابینہ نے اعلان کیاہے کہ وہ سپریم کورٹ کے توہین عدالت کے فیصلے کے خلاف ریویوپیٹیشن دائرکریں گے دوسری طرف انہوں نے پارلیمنٹ میں عدالت لگانے کابیان دے کر ایک نہایت ہی شرمناک منطق پیش کی ہے ،لگتاہے کہ وزیراعظم کواپنے جرم کااچھی طرح سے احساس ہے اوروہ ےہ جان چکے ہیں کہ انہیں اپنے کئے کی سزادرست طورپرملی ہے اسی لئے انہوں نے ریویوپیٹیشن دائرکرنے سے پہلے ہی واویلا مچانا شروع کردیاہے ۔مشاہداللہ خان نے کہاکہ چاہیے توےہ تھا کہ اپنے اقتدارکے آخری سال کے دوران حکمران اپنے اعمال سے رجوع کرتے اورکچھ توجہ عوام کودرپیش مسائل کے حل کی جانب مبذول کردیتے لیکن انہیں توصرف سیاسی شہادت کے رتبے سے ہی غرض ہے ،وہ ےہ رتبہ حاصل کرنے کےلئے کسی بھی سطح پرگرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کوپوری اسمبلی نے متفقہ طورپرمنتخب کیاتھا توآج اسی اسمبلی کے ارکان کی بڑی اکثریت ان کاساتھ چھوڑکراپوزیشن بنچوں پربیٹھ چکی ہے ،آج وہ ایک متفقہ نہیں بلکہ ایک متنازعہ اورمجرم وزیراعظم ہیں،انہیں چاہیے کہ وہ اعلی اخلاقی اقدارکامظاہرہ کرتے ہوئے ےاتو رضاکارانہ طورپراپنے عہدے سے الگ ہوجائیں ےاپھر عوام میں دوبارہ اپنی اکثریت ثابت کرنے کےلئے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ہمت پیداکریں ،خودان کی اپنی جماعت کے پیشترارکان ان سے صرف نالاں ہوچکے ہیں بلکہ انکے رویے اورکردارپرشرمسارہیں ،شایدوزیراعظم کونہ تو اخلاقیات کی فکرہے اورنہ ہی اپنے مینڈیٹ کاپاس رکھنے کی ، پانچ سال کے لئے مینیڈیٹ کا مطلب پانچ سال کےلئے کرپشن کی کھلی چھٹی نہیں بلکہ ملک کا نظم ونسق بہترین اسلوب پرچلانااورملک اورعوام کوآگے کی جانب لے کر بڑھناہوتاہے۔

One thought on “Mushahid Ullah Khan’s reaction on PM Gillani’s speech in N.A

Comments are closed.