Ahsan Iqbal on PPP’s high claims on her victory in Multan by-elections

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ ملتان کے ضمنی الیکشن آئندہ انتخابات کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ ضمنی انتخابات میں ووٹر جانتا ہے کہ اس کے ووٹ سے حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں ۔لہذا وہ مقامی دھڑے بندیوں اور ضرورتوں کے تحت ووٹ ڈالتا ہے ۔اس کے باوجود یوسف رضا گیلانی کی ذاتی انتخابی مہم میں شرکت سے بھی ان کے صاحبزادے سسک سسک کر جیتے جبکہ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار حصہ لے رہا تھا ۔انہوں نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو گذشتہ چار سالہ کارکردگی کا جواب دینا ہوگا جس میں قوم پر لوڈ شیڈنگ ،مہنگائی ، بے روزگاری اور بد امنی کا راج مسلط کیا ۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ چار سالوں میں زندگی کے ہر شعبے میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے انحطاط پیدا ہوا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ 90فیصد عوام حکومت کی کارکردگی سے نالاں اورمایوس ہیں ۔ 2008کے انتخابات میں ق لیگ نے اپنی غیر مقبولیت کو اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری سرپرستی سے دھونے کی کوشش کی تھی لیکن شکست اس کا مقدر بنی ۔حکمران اتحاد کی ہر جماعت نے چار سالوں میں اپنے مفادات کے لیے تمام اصولوں اور ضابطوں کا سودا کیااور لوٹ کھسوٹ کی بے نظیر مثال قائم کی ۔ پاکستا ن کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی ڈوبتی ہوئی معیشت ہے جس کو سنبھا لا دینے کا پروگرام او رٹیم مسلم لیگ ن کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اپنی آئندہ کامیابی کے لیے پاکستان تحریک انصاف پر تکیہ کر کے بیٹھی ہے تاکہ وہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹ تقسیم کر کے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے جیتنے کی راہ ہموا ر کر سکے لیکن عوام باشعور ہیں اور جن ووٹرز کو عمران خان سے محبت ہے انہیں اس سے کئی درجہ زیادہ صدر زرداری کے راج سے نفرت ہے ۔اور وہ عمرانْ خان کی محبت میں ملک پر دوبارہ زرداری راج نافذ کرنے کا گناہ کبھی نہیں کر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ اگلا انتخابی معرکہ ملک کے لیے فیصلہ کن ہوگا اگر معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی تو پھر ہارس ٹریڈنگ اور بندر بانٹ کی سیاست ہوگی ملک کا مقدر ہار جائے گالہذآ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے ضرور ی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو عوام اکثریت سے کامیاب کریں تاکہ ایک مضَبوط حکومت وجود میں آئے جو ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور وہ فیصلے کر سکے جس سے ملکی معشیت کا پہیہ دوبارہ چالو ہو۔