Ahsan Iqbal on Contempt Law passed by N. A

 توہین عدالت قانون دراصل این آراو کی کرپشن کو تحفظ دینے کاقانون ہے تاکہ این آراو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پرعمل نہ کرنے والے وزیراعظم کو قانون کی پکڑ سے بچایا جاسکے ،احسن اقبال

 

صدرزرداری اورانکے 60ملین ڈالربچانے کی خاطر حکومت نے آئین ،جمہوریت اورپارلیمنٹ کو داﺅ پرلگا رکھاہے اورمحض ایک شخصیت کی وجہ سے پورا جموری نظام زلزلے کی زد میں ہے اگرحکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل درآمد کرتے ہوئے سوئس حکام کو خط لکھ دے تو عدلیہ کے ساتھ اس کا ساتھ تنازعہ ختم ہوجائے گا

 

حکومت گزشتہ چارسالوں میں فیل ہونے کے بعد اب سیاسی ناٹک کا سہارالے رہی ہے اورآئین اورقانون سے متصاد م قانون سازی کرکے وہ چاہتی ہے کہ عدلیہ ان قوانین کو غیرقانونی قراردے اوروہ عوام کی نظروں میں مظلومیت کی دھول جھونک سکے،ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ(ن)

    (      )

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاہے کہ توہین عدالت قانون دراصل این آراو کی کرپشن کو تحفظ دینے کاقانون ہے تاکہ این آراو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پرعمل نہ کرنے والے وزیراعظم کو قانون کی پکڑ سے بچایاجاسکے ۔انہوں نے کہاکہ صدرزرداری اورانکے 60ملین ڈالربچانے کی خاطر حکومت نے آئین ،جمہوریت اورپارلیمنٹ کو داﺅ پرلگا رکھاہے اورمحض ایک شخصیت کی وجہ سے پورا جموری نظام زلزلے کی زد میں ہے اگرحکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل درآمد کرتے ہوئے سوئس حکام کو خط لکھ دے تو عدلیہ کے ساتھ اس کا ساتھ تنازعہ ختم ہوجائے گا اگرحکومت سمجھتی ہے کہ صدرزرداری بے گناہ ہیں اسے اس قدرپریشانی کیوں ہے اوروہ اپنے وزیراعظم کو قربانی کابکرا بناکر کیوں پیش کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت گزشتہ چارسالوں میں فیل ہونے کے بعد اب سیاسی ناٹک کا سہارالے رہی ہے اورآئین اورقانون سے متصاد م قانون سازی کرکے وہ چاہتی ہے تا کہ عدلیہ ان قوانین کو غیرقانونی قراردے اوروہ عوام کی نظروں میں مظلومیت کی دھول جھونک سکے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام باشعورہیں اورایسی شعبہ بازی سے انہیں گمراہ نہیں کیاجاسکتا۔مسلم لیگ(ن) نے جس طرح قومی اسمبلی میں اس قانون کی مخالفت کی اسی طرح اسمبلی سے باہربھی اس کی مخالفت کرے گی اورحکومت کو قانون کی حکمرانی اورعدلیہ کی آزادی سے کھلینے سے کاموقع نہیں دے گی ۔انہوں نے کہاکیہ دوہری شہریت کابل حکومت اوراس کے اتحادیوں کےلئے ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) کا کلیدی عہدے پرفائز کوئی بھی عہدیداردوہری شہریت نہیں رکھتا ۔