Success of negotiations would benefit the country and the people, PMLN

با مقصد مذاکرات ہی جمہوریت کے تسلسل کے ضامن ہوسکتے ہیں۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان کے رفقاءکار تیز و تند بیانات کی بجائے مذاکرات کی کامیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔ سینیٹر مشاہداللہ
حکومت کھلے دماغ کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے ۔ مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ با مقصد مذاکرات ہی جمہوریت کے تسلسل کے ضامن ہوسکتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کا جمہوریت پر پختہ یقین کے حوالے سے بیان خوش آئند ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ پاکستان کو یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح جمہوریت کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن کر کے دنیا میں ممتاز مقام دلوانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کے رفقاءکار تیز و تند بیانات کی بجائے مذاکرات کی کامیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔ سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں دھرنوں اور سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری کے رجحان میں منفی اثرات کی رپورٹ پر ہر محب وطن پاکستانی کو تشویش ہے ۔ انھوں نے کہا کہ دھرنے محض سیاسی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے لئے پریشانی کا سبب نہیں بلکہ ان کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری اور ترقی کے رجحانات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ ہمیں ایک میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کھلے دماغ کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی پاکستان کے عوام اور جمہوریت کی فتح ہوگی ۔ انھوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کو عوام کی طرف سے جو بھی مینڈیٹ دیا گیا اس پر عمل کرنا ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے ۔

Negotiations & abuses can’t go together Mushahidulla Khan..

گالی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان نے گزشتہ روز نوازشریف کے خلاف جو غلط زبان استعمال کی اور جس طرح ایسی ہی زبان استعمال کرنے کا عزم کیا اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان نے سیاست میں گندگی کو فروغ دیا اور سیاست کو گالی بنا ڈالا ہے ۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان کو اپنے اٹھائے گئے ہر قدم پر نہ صرف ناکامی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ان کا پل پل ان کے لئے باعث ندامت اور شرمندگی بنتا گیا۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان سے ایک بار پھر گذارش کرتے ہیں کہ دھرنا سمیٹ کر اسمبلیوں میں آنا شروع کردیں۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
انتخابی اصلاحات میں عمران خان اور تحریک انصاف کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے ۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
ہر تبدیلی اور خوشحالی کا راستہ پارلیمنٹ اور جمہوریت سے ہو کر گزرتا ہے ۔ سینیٹر مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ گالی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔انھوں نے کہا کہ عمران خان نے گزشتہ روز نوازشریف کے خلاف جو غلط زبان استعمال کی اور جس طرح ایسی ہی زبان استعمال کرنے کا عزم کیا اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کے خلاف بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن وہ اس قابل ہی نہیں کہ ان کی گالی کا بھی جواب دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان نے سیاست میں گندگی کو فروغ دیا اور سیاست کو گالی بنا ڈالا ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کو اپنے اٹھائے گئے ہر قدم پر نہ صرف ناکامی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ان کا پل پل ان کے لئے باعث ندامت اور شرمندگی بنتا گیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت تو عمران خان سے مذاکرات اور ان کی کامیابی کی خواہش مند ہے لیکن ڈر ہے کہ عمران خان خو د ہی اپنی جماعت اور ہماری کوششوں کو نتیجہ خیز نہیں بننے دیں گے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی نیک نیتی سے مذاکرات کئے اور استعفیٰ کے علاوہ تمام مطالبات تسلیم کر لئے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ تمام معاملات باعزت طریقے سے طے پا جائیں تاکہ عمران خان بھی سبکی سے بچ جائیں اور حکومت بھی ترقی کے عمل کو جاری رکھ سکے ۔ انھوں نے کہا کہ عالمی ادارے بھی پاکستان میں کرپشن کو کم سے کم سطح پر لانے کے لئے حکومتی اقدامات کو سراہ رہے ہیں۔ عمران خان اللہ کو مانیں اور ملک کو کرپشن کے حوالے سے بدنام کرنا چھوڑ دیں۔ سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان سے ایک بار پھر گذارش کرتے ہیں کہ دھرنا سمیٹ کر اسمبلیوں میں آنا شروع کردیں۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات میں عمران خان اور تحریک انصاف کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ ہر تبدیلی اور خوشحالی کا راستہ پارلیمنٹ اور جمہوریت سے ہو کر گزرتا ہے ۔

PMLN reaction on Imran Khan’s speech

عمران خان نے 30اکتوبر 2011 کی تقریر ایک بار پھردہرا دی۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان خود بھی تبدیلی کے ایجنڈے سے مکمل طور پر نا آشنا ہیں۔مشاہداللہ خان
عمران خان ایک طرف ہر جماعت کا مسترد شدہ سیاستدان قبول کرتے ہیں دوسری طرف اسمبلی میں بیٹھے سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔مشاہداللہ خان
عمران کے پلے جو بچا تھا اپنے اعلان کے بعد وہ بھی لٹا بیٹھیں گے۔ مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے 30اکتوبر 2011 کی تقریر ایک بار پھردہرا دی۔ بدقسمتی سے آج بھی عوام کو نیا وژن اور ایجنڈا نہ مل سکا۔ عمران خان تقریر کامصنف بدلیں۔ انھوں نے کہا کہ ثابت ہو گیا کہ عمران خان خود بھی تبدیلی کے ایجنڈے سے مکمل طور پر نا آشنا ہیں۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ جہاں جہاں دھاندلی ہوئی اس کے خلاف الیکشن ٹریبیونل میں پیش ہونا پڑتا ہے، جلسوں کے شرکاءکی تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے اس پر فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے کہا کہ امن و امان، صحت عامہ، تعلیم سمیت تمام شعبے جتنے خیبر پختونخواہ میں ابتر حالت میں ہیں باقی صوبوں میں اس کی مثال نہیں ملتی۔مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اپنے ارد گرد فصلی بٹیرے اور پاکستان میں مفاد پرستی کی علامت بننے والے سیاستدانوں کو بٹھا کر عام آدمی کے انتخاب لڑنے کی بات کرنا غریب اور نوجوان کے ساتھ مذاق ہے۔انھوں نے کہا کہ عمران خان ایک طرف ہر جماعت کا مسترد شدہ سیاستدان قبول کرتے ہیں دوسری طرف اسمبلی میں بیٹھے سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کا ملک کے بڑے شہروں کو بند کرنے کا اعلان خود اس کے لیے جگ ہمسائی کے سوا کچھ نہیں لائے گا۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے اعلان سے عوام کو مایوسی ہوئی۔انھوں نے کہا کہ عمران کے پلے جو بچا تھا اپنے اعلان کے بعد وہ بھی لٹا بیٹھیں گے۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ16 دسمبر کو پاکستان دولت کیا گیا تھا، عمران خان نے پاکستان میں ترقی کے عمل کو تباہ کرنے اور عوام میں نفرتوں کے بیج بونے کیلیے اسی دن کا انتخاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ پلان اے بی سی سب ناکام ہو گئے، اللہ کا پلان کامیاب ہوگا اور پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت اور قیادت میں ہی دنیا میں ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے گا۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران کو اپنے کیے گئے اعلان کی کامیابی کا یقین نہیں، وہ اعتماد سے خالی اور نتائج سے مایوس نظر آئے۔

PMLN demands Imran Khan to tell the complete truth

بہتر ہوتا کہ عمران خان قوم کو بتا ہی دیں کہ آخرکون سی قوتیں یا شخصیات تھیں جنہوں نے نوازشریف کو اقتدارمیں لانے کیلئے دھاندلی کی اوران کا کیاایجنڈا تھا؟عاصم خان نیازی
قوم عمران خان سے نوازشریف کواقتدار میں لانے والی قوتوں کے نام اور ان کے خفیہ ایجنڈے کی تفصیل جاننا چاہتی ہے، عمران خان جرا ¿ت کامظاہرہ کریں اور سب کہہ دیں۔عاصم خان
اگرافتخار چوہدری نےROs کے ذریعے دھاندلی کروائی توان کے کیا مقاصد تھے اور آج ان مقاصد کی تکمیل کہاں تک ہو سکی؟ عمران قوم کو سچ کیوں نہیں بتاتے؟ترجمان پاکستان مسلم (ن) عاصم خان
اگر عمران نے سچ نہ بولااوردھاندلی کرنے والوں اور ان کے مقاصد اور عزائم کو بے نقاب نہ کیا تو قوم اور جمہوریت کو پیش آنے والے ہر حادثے کے وہی ذمہ دارہونگے۔ترجمان پاکستان مسلم لیگ (ن)
خان صاحب ایمپائر تو آپ کے ساتھ تھے، ہفتے کی رات انگلی بھی اٹھنا تھی اور نوازشریف کی حکومت بھی گرجانی تھی، اس حکومت کو اقتدارمیں کون لایاآخر؟ترجمان مسلم لیگ (ن) عاصم خان
اگر عمران نے سچ نہ بولااوردھاندلی کرنے والوں اور ان کے مقاصد اور عزائم کو بے نقاب نہ کیا تو قوم کو پیش آنے والے ہر حادثے کے وہی ذمہ دارہونگے، عاصم خان نیازی
اگر عمران خان ان سوالات کے جوابات نہیں دیتے تو ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور قوم ہی سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ عمران خان کی لڑائی صرف ذاتی اقتدار کے حصول کے لئے ہے۔ عاصم خان ترجمان مسلم لیگ (ن)

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان عاصم خان نیازی نے کہا ہے کہ بہتر ہوتا کہ عمران خان قوم کو بتا ہی دیں کہ آخرکون سی قوتیں یا شخصیات تھیں جنہوں نے نوازشریف کو اقتدارمیں لانے کیلئے دھاندلی کی اوران کا کیاایجنڈا تھا؟انھوں نے کہا کہ قوم عمران خان سے نوازشریف کواقتدار میں لانےوالی قوتوں کے نام اور ان کے خفیہ ایجنڈے کی تفصیل جاننا چاہتی ہے، عمران جر?ت کامظاہرہ کریں اور سب کہہ دیں۔ترجمان پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اگرافتخار چوہدری نےROs کے ذریعے د ھاندلی کروائی توان کے کیا مقاصد تھے اور آج ان مقاصد کی تکمیل کہاں تک ہو سکی؟ عمران قوم کو سچ کیوں نہیں بتاتے؟انھوں نے کہا کہ اگر عمران نے سچ نہ بولااوردھاندلی کرنے والوں اور ان کے مقاصد اور عزائم کو بے نقاب نہ کیا تو قوم اور جمہوریت کو پیش آنے والے ہر حادثے کے وہی ذمہ دارہونگے۔خان صاحب ایمپائر تو آپ کے ساتھ تھے، ہفتے کی رات انگلی بھی اٹھنا تھی اور نوازشریف کی حکومت بھی گرجانی تھی، اس حکومت کو اقتدارمیں کون لایاآخر؟عاصم خان نیازی نے کہا کہ اگر عمران نے سچ نہ بولااوردھاندلی کرنے والوں اور ان کے مقاصد اور عزائم کو بے نقاب نہ کیا تو قوم کو پیش آنے والے ہر حادثے کے وہی ذمہ دارہونگے۔ انھوں نے کہا کہ اگر عمران خان ان سوالات کے جوابات نہیں دیتے تو ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور قوم ہی سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ عمران خان کی لڑائی صرف ذاتی اقتدار کے حصول کیلیے ہے۔

Imran Khan loves rejected and turncoats, Senator Mushahidullah Khan

وزیر اعظم نواز شریف ملک سے بیروزگاری مہنگائی کے خاتمے اور بجلی بحران کے حل کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، عمران خان ترقی کے عمل میں رکاوٹیں ڈال کر قوم کا وقت اور پیسہ برباد کر رہے ہیں۔ سینیٹر مشاہدا للہ خان
عمران خان کو صرف وزیر اعظم بننے کا شوق ہے ان کے پاس ملکی ترقی اور بحرانوں کے خاتمے کا کوئی وژن اور حل موجود نہیں۔مشاہداللہ خان
عمران خان وزیر اعظم نہ بن سکنے کا بدلہ خیبر پختونخواہ میں مینڈیٹ دینے والوں سے تو نہ لیں۔ مشاہداللہ خان
عمران خان دوسری جماعتوں سے مسترد شدہ لوگوں کو ساتھ ملا کر کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکتے۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
30 نومبر کو بھی کوئی نئی بات اور نیا لائحہ عمل نہیں آئے گا، وہی الزامات اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی پرانی مشق دہرائی جائے گی۔ مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف ملک سے بیروزگاری مہنگائی کے خاتمے اور بجلی بحران کے حل کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، عمران خان ترقی کے عمل میں رکاوٹیں ڈال کر قوم کا وقت اور پیسہ برباد کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ عمران خان ثبوت پیش کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور وقت آنے پر فرسودہ الزامات دہرانے کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کو صرف وزیر اعظم بننے کا شوق ہے ان کے پاس ملکی ترقی اور بحرانوں کے خاتمے کا کوئی وژن اور حل موجود نہیں۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ اگر عمران خان کے پاس نئے پاکستان کی تشکیل کا کوئی ایجنڈا تھا تو اس کی تکمیل کیلئے خیبر پختونخواہ میں اقدامات کئے جا سکتے تھے، عمران خان وزیر اعظم نہ بن سکنے کا بدلہ خیبر پختونخواہ میں مینڈیٹ دینے والوں سے تو نہ لیں۔انھوں نے کہا کہ عمران خان دوسری جماعتوں سے مسترد شدہ لوگوں کو ساتھ ملا کر کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکتے۔ سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان لوٹوں اور ابن الوقتوں کو ساتھ رکھ کر جو پاکستان بنائیں گے اس پر صرف اللہ کی پناہ ہی طلب کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ30 نومبر کو بھی کوئی نئی بات اور نیا لائحہ عمل نہیں آئے گا، وہی الزامات اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی پرانی مشق دہرائی جائے گی۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان ملک اور قوم کے ساتھ مخلص ہیں تو اسلام آباد کے جلسے میں دھرنوں اور انتشار کی سیاست کے خاتمے کا اعلان کر کے تمام تر توانائیاں عوام کی خدمت اور پارلیمنٹ میں تعمیری کردار ادا کرنے کا وعدہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے عمران خان کو اسلام آباد میں جلسے کرنے کی اجازت دے دی، عمران خان اندر ہی اندر اس پر بھی ناراض ہیں۔ عمران خان اور ڈبل شاہ سمجھ رہے تھے کہ اجازت نہ ملنے سے سیاسی فائدہ مل سکتا تھا۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان جلسے ضرور کریں لیکن ملکی مفاد ضرور مقدم رکھیں، ملک میں ترقی اور معیشت کی بحالی کا جو عمل شروع ہوا ہے اسے روکنے کی کوشش نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ کیا یہ اچھا نہیں ہوگا کہ آئندہ عام انتخابات میں عمران خان وفاق اور باقی تین صوبوں کے مقابلے میں نیا اور ترقی یافتہ خیبر پختون خواہ پیش کر کے اپنی اہلیت ثابت کریں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان بلدیاتی انتخابات کا رونا رونے کی بجائے خیبر پختونخواہ میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔انھوں نے کہا کہ الزامات لگانے کی بجائے ثبوت لے کر عدالتوں میں جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

Mushahidullah Khan on 30th November

اگر عمران خان واقعی میں پاکستان کے لیے لڑ رہے ہیں تو سڑکوں پر فیصلے کرنے کی بجائے ایوان میں آ کر تعمیری سیاست کا آغاز کریں۔سینیٹر مشاہداللہ خان
اگر عمران خان اپنا خطاب دھرنے کی بجائے ایوان کے اندر کھڑے ہو کر کرینگے تو ان کی بات کو سنجیدہ لیا جائے گا۔سینیٹر مشاہداللہ خان
حکومت نے پر امن مظاہرین پر تشدد کیا اور نہ ہی آئندہ کوئی ارادہ ہے۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان قانون کے مطابق چلیں تو پھر انہیں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہونا چاہئیے۔سینیٹر مشاہداللہ خان
پرویز خٹک صوبے کے وزیر اعلی ہیں انہیں وفاقی حکومت کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ زیب نہیں دیتا۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
دس لاکھ تو کیا دس کروڑ افراد کو نکال لائیں مگر قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے۔
30 نومبر بھی عام دنوں کی طرح گزر جائیگا، عوام ترقی کے عمل کو پٹڑی سے نہیں اترنے دینگے۔سینیٹر مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ اگر عمران خان واقعی میں پاکستان کے لیے لڑ رہے ہیں تو سڑکوں پر فیصلے کرنے کی بجائے ایوان میں آ کر تعمیری سیاست کا آغاز کریں۔انھوں نے کہا کہ اگر عمران خان اپنا خطاب دھرنے کی بجائے ایوان کے اندر کھڑے ہو کر کرینگے تو ان کی بات کو سنجیدہ لیا جائے گا۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ حکومت نے پر امن مظاہرین پر تشدد کیا اور نہ ہی آئندہ کوئی ارادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان قانون کے مطابق چلیں تو پھر انہیں کوئی خوف اور ڈر نہیں ہونا چاہئیے۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ پرویز خٹک صوبے کے وزیر اعلی ہیں انہیں وفاقی حکومت کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ زیب نہیں دیتا۔ انھوں نے کہا کہ دس لاکھ تو کیا دس کروڑ افراد کو نکال لائیں مگر قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ 30 نومبر بھی عام دنوں کی طرح گزر جائیگا، عوام ترقی کے عمل کو پٹڑی سے نہیں اترنے دینگے۔