PMLN rebuttal on Imran Khan’s allegations

عمران خان تبدیلی نہیں لانا چاہتے بلکہ صرف تبدیلی کے نام پر تماشا لگا رہے ہیں۔سینیٹر مشاہداللہ خان
اگر عمران خان تبدیلی لانے میں مخلص ہیں تو انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک ہوں۔سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان کی جماعت میں بد ترین آمریت کی وجہ سے شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔سینیٹر مشاہداللہ خان
میرٹ کے علمبردار عمران خان بتائیں کہ انہوں نے مرکزی سیکریٹری جنرل اور کے پی کے کے صدر کی تقرری کس بنیاد پر کی؟
تحریک انصاف کا ہر مخلص کارکن اس بات پر شاکی ہے کہ عمران خان کے نزدیک پارٹی عہدے کا مستحق صرف وہی ہے جس کے پاس اربوں روپے ہوں۔سینیٹر مشاہداللہ خان
جمہوریت اور شفافیت کی مالا جپنے والے عمران خان شوکت خانم ہسپتال اور اپنی جماعت کے فنڈز کا حساب مانگنے پر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔سینیٹر مشاہداللہ خان
الزام تراشی کرنے کی بجائے عمران خان اپنے الزامات کو لے کر عدالت جائیں۔ قوم کے سامنے سچ اور جھوٹ لانا ضروری ہے۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
قوم جاننا چاہتی ہے کہ عمران خان کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ عمران خان کے بچے لندن کے مہنگے تعلیمی اداروں میں کس کے اخراجات پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟ سینیٹر مشاہداللہ خان
اولاد انسان کا سب سے برا ثاثہ ہوتی ہے عمران خان کا اصل اثاثہ ملک سے باہر ہے ، قوم کا مطالبہ ہے کہ عمران خان اپنی اولاد کو وطن واپس بلائیںتاکہ وہ بھی اٹھارہ کروڑ عوام جیسی زندگی گزارے۔ سینیٹر مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان تبدیلی نہیں لانا چاہتے بلکہ صرف تبدیلی کے نام پر تماشا لگا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگر عمران خان تبدیلی لانے میں مخلص ہیں تو انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک ہوں۔سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کی جماعت میں بد ترین آمریت کی وجہ سے شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ میرٹ کے علمبردار عمران خان بتائیں کہ انہوں نے مرکزی سیکریٹری جنرل اور کے پی کے کے صدر کی تقرری کس بنیاد پر کی؟مشاہداللہ خان نے کہا کہ تحریک انصاف کا ہر مخلص کارکن اس بات پر شاکی ہے کہ عمران خان کے نزدیک پارٹی عہدے کا مستحق صرف وہی ہے جس کے پاس اربوں روپے ہوں۔انھوں نے کہا کہ جمہوریت اور شفافیت کی مالا جپنے والے عمران خان شوکت خانم ہسپتال اور اپنی جماعت کے فنڈز کا حساب مانگنے پر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ الزام تراشی کرنے کی بجائے عمران خان اپنے الزامات کو لے کر عدالت جائیں۔ قوم کے سامنے سچ اور جھوٹ لانا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ عمران خان کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ عمران خان کے بچے لندن کے مہنگے تعلیمی اداروں میں کس کے اخراجات پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟ مشاہداللہ خان نے کہا کہ اولاد انسان کا سب سے برا ثاثہ ہوتی ہے عمران خان کا اصل اثاثہ ملک سے باہر ہے ، قوم کا مطالبہ ہے کہ عمران خان اپنی اولاد کو وطن واپس بلائیںتاکہ وہ بھی اٹھارہ کروڑ عوام جیسی زندگی گزارے۔

PMLN rejoinder on IK’s baseless allegations

عمران خان دھونس اور دھمکی کی بجائے سیاسی رویہ اپنائیں، پاکستان کے عوام جان چکے ہیں کہ ان کا مقصد اقتدار کے حصول کے علاوہ کچھ نہیں۔سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان بتائیں کہ کیا انہوں نے اپنی جماعت میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر دئیے؟ سینیٹر مشاہداللہ خان
لگتا ہے عمران خان عوام کو دھمکیاں لگا رہے ہیں کہ انہیں حکومت میں نہ لایا گیا تو وہ کوئی حکومت نہیں چلنے دیں گے۔سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان کونسا حق مانگتے ہیں؟ حکومت کرنا تو صرف اس کا حق ہے جسے عوام ووٹ دیں۔سینیٹر مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان دھونس اور دھمکی کی بجائے سیاسی رویہ اپنائیں، پاکستان کے عوام جان چکے ہیں کہ ان کا مقصد اقتدار کے حصول کے علاوہ کچھ نہیں۔ا نھوں نے کہا کہ نیا پاکستان بنانے والے خیبر پختونخواہ میں کارکردگی کے سوال پر تاویلیں پیش کرنے لگتے ہیں۔ سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ 30 نومبر کو عمران خان کس بات پر احتجاج کریں گے جبکہ وہ خود مانتے ہیں کہ آدھے مطالبے کے علاوہ سارے مطالبات مانے جا چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان نے خیبر پختونخواہ میں اقربا پروری کا سدباب نہیں کیا جبکہ وہ صرف منتخب لوگوں کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان بتائیں کہ کیا انہوں نے اپنی جماعت میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر دئیے؟ انھوں نے کہا کہ ایک سیاستدان کو کسی اخبار نویس یا اخبار کے مالک کے ساتھ بغض اور دشمنی زیب نہیں دیتی۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کونسا حق مانگتے ہیں؟ حکومت کرنا تو صرف اس کا حق ہے جسے عوام ووٹ دیں۔انھوں نے کہا کہ لگتا ہے عمران خان عوام کو دھمکیاں لگا رہے ہیں کہ انہیں حکومت میں نہ لایا گیا تو وہ کوئی حکومت نہیں چلنے دیں گے۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ تبدیلی کے علمبردار روایتی وڈیروں اور جعلی پیروں اور عاملوں کو اپنے ساتھ ملاتے جا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ عمران خان اللہ کو گواہ بنا کر اور سچ بولنے کا وعدہ کر کے جھوٹ بولنے والے عمران خان ذہنی تناو ¿ اور ڈپریشن کے مریض بن چکے ہیں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ جھوٹ بول کر عوام کا اعتماد نہیں حاصل ہو سکتا۔

Iqbal Zafar Jhagra addressing a reception party.

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا مسلم لیگ (ن) کے ترجمان عاصم خان کی جانب سے دیئے گئے استقبالئے سے خطاب کر رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہدا للہ خان بھی موجود ہیں۔

Imran Khan’s designs to derail the country and its on going system are igniting fir of hatred

عمران خان کا ملک میں افرا تفری اور انتشار کا منصوبہ پہلے کامیاب ہوا نہ اب ہوگا۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان پرانے پاکستان کو جلا کر نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔مشاہداللہ خان
عمران خان یاد رکھیں اقتدار اور عزت و ذلت کے فیصلے اللہ کے پاس ہوتے ہیں۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان مسلم لیگ (ن) سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان کو اللہ پر بھروسہ ہے نہ عوام پر اعتبار، ان کا مقصد کسی بھی صورت اقتدار پر قابض ہو جانا ہے۔مشاہداللہ خان
ایمپائر کی انگلی کے منتظر عمران خان کی تمام امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔سینیٹر مشاہداللہ خان
ڈر ہے کہ ڈبل شاہ کے جھانسے میں آ کر عمران خان خود اپنے خلاف کوئی انتہائی قدم نہ اٹھا بیٹھیں۔مشاہداللہ خان
عمران خان کو کچھ عرصہ آرام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔سینیٹر مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کا ملک میں افرا تفری اور انتشار کا منصوبہ پہلے کامیاب ہوا نہ اب ہوگا۔انھوں نے کہا کہ عمران خان پرانے پاکستان کو جلا کر نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان یاد رکھیں اقتدار اور عزت و ذلت کے فیصلے اللہ کے پاس ہوتے ہیں۔ا نھوں نے کہا کہ عمران خان کو اللہ پر بھروسہ ہے نہ عوام پر اعتبار، ان کا مقصد کسی بھی صورت اقتدار پر قابض ہو جانا ہے۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ ایمپائر کی انگلی کے منتظر عمران خان کی تمام امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈر ہے کہ ڈبل شاہ کے جھانسے میں آ کر عمران خان خود اپنے خلاف کوئی انتہائی قدم نہ اٹھا بیٹھیں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کو کچھ عرصہ آرام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ
عمران خان دھرنوں پر عوام کے خون پسینے کی کمائی پانی کی طرح بہانے کی بجائے کے پی کے میں عوام کی خدمت اور تبدیلی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے پر خرچ کریں تو انہیں روحانی تسکین بھی ملے گی اور عوام کو بھی نئے پاکستان کی زندہ جھلک دیکھنے کو مل جائیگی۔

Senator Mushahidullah Khan to stop charecter assassination and sit on the table talk.

عمران خان کو گرفتار ہونے کا بھی شدید خوف ہے اور سیاسی مستقبل بھی گرفتاری میں تلاش کر رہے ہیں۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خا ن دوسروں کو قانون کی پاسداری کا سبق پڑھاتے تھکتے نہیں لیکن خود عدالت کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ سینیٹر مشاہدا للہ خان
عمران خان کو سیاست کے ڈبل شاہوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔سینیٹر مشاہداللہ خان
عمران خان کو انصاف لینا ہے تو عدالت کا احترام اور ان کے آگے سر جھکانا سیکھیں ۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
مریم نوازشریف کی اپنے عہدے سے رضاکارانہ علیحدگی سے حکومت کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی ۔سینیٹر مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کو گرفتار ہونے کا بھی شدید خوف ہے اور سیاسی مستقبل بھی گرفتاری میں تلاش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمران خا ن دوسروں کو قانون کی پاسداری کا سبق پڑھاتے تھکتے نہیں لیکن خود عدالت کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ سینیٹر مشاہدا للہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کو سیاست کے ڈبل شاہوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ انھوں نے کہا کہ ڈبل شاہ عمران خان کو ان کی جمع پونجی سے محروم کر کے اپنے گناہ بھی ان کے سر ڈالنا چاہتے ہیں۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کو انصاف لینا ہے تو عدالت کا احترام اور ان کے آگے سر جھکانا سیکھیں ۔ انھوں نے کہا کہ اگر عدلیہ کا فیصلہ ہمارے خلاف آجائے تو عدلیہ غیر جانبدار اوران کی مرضی کے خلاف ہو تو جج بکے ہوئے ، اس دور نگی کو ختم کرنا ہوگا۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ حکومت چاہتی تو مریم نواز شریف کے خلاف ہائی کورٹ میں جاری کیس میں دفاع کرتی ۔ انھوں نے کہا کہ عدالت نے جو مہلت دی تھی اس دوران عدالت میں پیش ہوکر اسٹے آرڈر لیا جاسکتا تھا۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ مریم نوازشریف کی اپنے عہدے سے رضاکارانہ علیحدگی سے حکومت کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی ۔انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے ہمیشہ اصولوں کی جنگ لڑی اور کبھی عہدے اور اقتدار کی ہوس اصولوں کے آڑے نہ آسکی ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کے پاس اب بھی سنہرہ موقع ہے ، وہ آئیں اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر تمام مسائل پر بامقصد بات کریں ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری طرف سے عمران خان کو بند گلی سے نکالنے کے لئے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔

Senator Mushahidullah Khan terms Imran Khan statement on EVO highly immaature and irresponsible.

عوام اس حقیقت کو اچھی طرح جان چکے ہیں کہ عمران خان کی ساری لڑائی محض ذاتی اقتدار کے حصول تک محدود ہے ۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عوام بات بات پر مک مکا کے طعنے دینے اور تبدیلی لا کر دکھانے کے دعویدار عمران خان اور ان کی جماعت پر مزید اعتماد کرنے کو تیار نہیں ۔ مشاہداللہ خان
صبح شام تبدیلی کی مالا جپنے والے عمران خان 30اکتوبر 2011 ءسے لے کر آج تک اپنی تقریر میں تبدیلی لانے میں ناکام رہے ۔سینیٹر مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ صبح شام تبدیلی کی مالا جپنے والے عمران خان 30اکتوبر 2011 ءسے لے کر آج تک اپنی تقریر میں تبدیلی لانے میں ناکام رہے ۔ انھوں نے کہا کہ عوام بات بات پر مک مکا کے طعنے دینے اور تبدیلی لا کر دکھانے کے دعویدار عمران خان اور ان کی جماعت پر مزید اعتماد کرنے کو تیار نہیں ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عوام اس حقیقت کو اچھی طرح جان چکے ہیں کہ عمران خان کی ساری لڑائی محض ذاتی اقتدار کے حصول تک محدود ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر عمران خان کے تبدیلی کے نعروں میں ذرہ بھی سچائی ہوتی تو وہ خیبر پختونخوا ہ میں عوام کے دیئے گئے اعتماد پر پورا اترنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادیتے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے والے سیاسی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے گمنام ہوکر رہ گئے اور عمران خان کا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ تبدیلی ہی لانا مقصود تھی تو عمران خان قومی اسمبلی میں بیٹھ کر ذمہ دارانہ اور تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرکے ایک نئی تاریخ رقم کر سکتے تھے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کا غیر سنجیدہ اور غیر مخلصانہ رویہ یہیں سے ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی کی قائم کردہ کثیر الجماعتی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کا حصہ بن جانے کے باوجود اس کے ایک بھی اجلاس میں شرکت کی زحمت گوارہ نہ کی ۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان کے دعوو ¿ں اور شور وغاغا کو سن کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ ان کے پاس انتخابی نظام میں انتخابی تبدیلیوں اور اصلاحات کے لئے کوئی جامع اور انقلابی ایجنڈا موجود ہے جس کے ذریعے وہ ملک میں نہایت ہی شفاف انتخابی نظام یقینی بنانا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک صرف یہی ظاہر ہورہا ہے کہ یا تو وہ نظام کی اصلاح نہیں چاہتے یا پھر ان کے پاس سرے سے ایسا کوئی وژن اور پروگرام موجود ہی نہیں ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان او ر اس کی جماعت کے حالیہ بیانات سے ایک بات نہایت ہی واضح ہے کہ وہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے پہلے ہی اس عہدے کو ایک بار پھر سے متنازع بنا دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ رحیم یار خان میں عمران خان کی جانب سے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کو چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ قبول نہ کرنے کا مشورہ دراصل اس بات پر انھیں متنبہ کردیناہے کہ اگر انھوں نے جو عہدہ قبول کر لیا تو انھیں متنازعہ بنا دیا جائے گا۔ مشاہداللہ خان نے کہا عوامی جلسے میں ایک نہایت ہی ذمہ دار شخص کو اس طرح کی وارننگ دینا افسوس ناک ، شرمناک اور قابل مذمت ہے ۔عمرا ن خان کو چاہئے کہ ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس طرح کے سنجیدہ معاملات عوامی جلسوں کی بجائے متعلقہ افراد اور مجاز اداروں کے سامنے اٹھائیں۔

Chinese President praises Pakistan VISION 2025

چین کے صدر لی جن پنگ نے پاکستان وژن 2025کا خصوصی ذکر کیا اور سراہا ۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو اگست 14میں پاکستان 2025لانچ کرنے پر مبارک دیتے ہیں ۔ لی جن پنگ نے کہا کہ پاکستان 2025 میں جدید انفرا سٹرکچر اور ریجنل کنوکٹوٹی پر فوکس وقت کی ضروت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کا ایشیا ءمیں اہم کردار ہے ۔

PMLN on PM VISIT TO CHINA AND EFFORTS TO DISRUPT ECONOMIC DEVELOPMENT PROCESS

وزیر اعظم محمد نوازشریف کا دورہ چین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے تاریخی اور سنگِ میل ثابت ہوگا ۔سینیٹر مشاہداللہ خان
اس دورے کے دوران ملک کی اقتصادی ترقی اور توانائی و انفرا سٹرکچر سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے اربوں ڈالر کے نئے منصوبوں کا اجرا ءکیا جائے گا۔مشاہداللہ خان
احتجاج اور دھرنا سیاست کا ایک مقصد پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں گزشتہ 14ماہ سے جاری اشتراک ِ عمل اور تعاون کی کوششوں اور نئی جہتوں کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانا تھا۔ سینیٹر مشاہداللہ خان
عوام نے احتجاج ، انتشار ، نفرت اور دھرنوں کی سیاست کو مسترد کردیا ہے، عمران خان کو بھی اس حقیقت کا اعتراف کرلینا چاہئے ۔ سینیٹر مشاہداللہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد نوازشریف کا دورہ چین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے تاریخی اور سنگِ میل ثابت ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران ملک کی اقتصادی ترقی اور توانائی و انفرا سٹرکچر سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے اربوں ڈالر کے نئے منصوبوں کا اجرا ءکیا جائے گا۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ چند ماہ کے دوران بعض عناصر نے انتشار اور نفرت کی سیاست کو ہوا دے کر ملک کو سیاسی و اقتصادی عدم استحکام سے دوچار کرنے کی خواہشمند بعض قوتوں کے مذموم ارادوں کو پورا کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوششیں کیں لیکن پاکستان کے عوام نے اجتماعی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ انھوں نے کہا کہ احتجاج اور دھرنا سیاست کا ایک مقصد پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں گزشتہ 14ماہ سے جاری اشتراک ِ عمل اور تعاون کی کوششوں اور نئی جہتوں کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانا تھا تاہم دونوں ممالک کی صاحب بصیرت قیادتوں اور ان کے درمیان موجود باہمی اعتماد کی وجہ سے ایسی کوششیں بھی کامیاب نہ ہوسکیں ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے قوم کے ساتھ کیا گیا ہر عہد ِوفا اور ہر وعدہ پورا کرنے کا عزم کر رکھا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے قوم کے ساتھ اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ ایک ایک لمحے کو قوم کی امانت سمجھ کر گزاریں گے اور عوام کو ہر لمحہ اور ہر دن ترقی کی جانب کوئی نہ کوئی بڑھتا ہوا قدم دکھائی دے گا۔ مشاہد اللہ خان نے ان خیالات کا اظہار پارٹی کے میڈیا سیل سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کیا ۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے دور ِ حکومت کے پہلے ایک سال کے دوران اس وعدے کو پورا کیا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس دن عوام کی بہتری کے لئے کسی نئے منصوبے یا پاکستان کی ترقی کے لئے کوئی اقدام نہ کیا گیا ہو۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ہماری ساری توجہ قوم کے سالوں سال ضائع کرنے کی تلافی کرنے پر مرکوز ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک اور عوام کے ساتھ 67سال کے دوران کی جانے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ عوام نے احتجاج ، انتشار ، نفرت اور دھرنوں کی سیاست کو مسترد کردیا ہے، عمران خان کو بھی اس حقیقت کا اعتراف کرلینا چاہئے کہ پاکستان کے عوام ملک میں ترقی کا عمل جاری رہتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں ملک کے اندر بار بار کھیلے جانے والے اقتدار کے میوزیکل چیئر سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ بہترہوگا عمران خان مایوسی میں غلط باتیںاور الزام تراشی کی سیاست کرنے کی بجائے 4سال خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت کریںاور دیگر صوبوں کے لئے اپنے صوبے کو رول ماڈل بنا کر پیش کریں ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہے اور ملک کو بحرانوں میں دھکیلنے کی بجائے بہتر مستقبل کی جانب ہر لمحہ پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔

Senator Mushahidullah Khan speeks to the party workers and media persons

موجودہ جمہوری حکومت کو غیر جمہوری طریقے سے کام سے روکنا اقتصادی ترقی پر خود کش دھماکے کے مترادف ہے ۔ سینیٹر مشاہدا للہ خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ ملک اقتدار کے میوزیکل چیئر کھیل کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی جن چیلنجز کا سامنا ہے ان سے عہدہ برآہ ہونے کے لئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ بار بار ملکی نظام کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کرنے کی وجہ سے پاکستان کے جمہوری ادارے مضبوط ہو سکے اور نہ ہی کسی شعبے میں ترقی کی منزل طے کی جاسکی ۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار وطن واپسی پر کارکنان اور میڈیا کے بعض نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طرح سے اقتدار کا حصہ ہیں ۔ بہتریہی ہے کہ ہر جماعت عوام کے دیئے گئے مینڈیٹ کے مطابق ڈیلیور کر ے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور یہ تسلیم بھی کرتی ہے کہ پاکستان میں قائم مسلم لیگ (ن) کی جمہوری حکومت معاشی استحکام کے حصول کے لئے اہم اور دور رس اثرات کے حامل اقدامات کر رہی ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت کو غیر جمہوری طریقے سے کام سے روکنا اقتصادی ترقی پر خود کش دھماکے کے مترادف ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں باہمی اختلافات کو بھلا کر صرف اور صرف ملک کو آگے لے جانے اور بحرانوں کے حل کے لئے سانسوں میں سانسیں ملا کر جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضروت ہے ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ پرویز خٹک کا پولیو کے خاتمے کے لئے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کرنا نہایت ہی خوش آئند اور نیک شگون ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سب کو اپنی اپنی سیاست کرنے کا حق حاصل ہے لیکن پاکستان کے مستقبل ، اس کی ترقی اور عوام کی بہتری پر سیاست جائز نہیں ۔

Sit-ins caused severe loss: Ahsan Iqbal

Federal Minister for Planning, Development and Reforms Ahsan Iqbal has said that politics of sit-ins caused a loss of billion of rupees to the national economy. Talking to media at Institute of Engineers Pakistan (IEP) here on Sunday, the minister said that PTI Chief Imran Khan was actually frightened of loosing his votes in general election 2018 as he knew the projects started by the government would complete successfully. Ahsan Iqbal said that politics of sit-ins could be termed as economic terrorism as every nation wanted economic stability. He said that World Bank, Moody’s, Asian Development Bank and others international insititutions had already lauded the one year performance of Pakistan and said the country was moving on right direction of progress. He said the image created by Imran Khan harmed the country adding that people have turned down Imran Khan’s conspiracies. The minister said PTI Chief had created wrong image that projects under Pak-China Economic corridor were only for Punjab, “Imran should answer about Karot Hydropower project, Quaid-i-Azam Solar Park in Cholistan, Energy Park in Thar whether these were for Punjab?, minister questioned. Ahsan Iqbal said that incumbent government has never made discrimination among provinces for launching development projects and PML-N government was focusing on starting projects with less cost for ensuring maximum progress of the country. He said that government was also working on cost rationalization of different projects so that unnecessary cost could be cut down. The minister said that Roshan Pakistan, Naya Pakistan could only be made if the challenges facing the country could be handled unitedly. He said that Imran Khan should get a noble prize for collecting charity. The sit-ins badly affected the labourers and farmers and even the export industry suffered a lot. He said that the present government would make all out efforts for making the country financially strong by following the Prime Minister’s economic agenda.