احتجاج کی قیمت

احتجاج کی قیمت
تحریر :ارشد وحید چودھری
وہ پمز)پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائسنز(اسالم آباد کی
ایمرجنسی میں اسٹریچر کے ساتھ بیٹھا آنسؤوں سے تر آنکھوں
کے ساتھ اپنے ہاتھ کی لکیروں میں اپنی ماں کو تالش کر رہا تھا
۔آنسوؤں سے دھندلے ہو جانے والے چشمے کے شیشوں سے
پار اپنے ہاتھ پر کندہ آڑھی ترچھی لکیروں میں اس شفیق ہستی
کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جس کے ساتھ صرف چند لمحے پہلے گاڑی
میں بیٹھے وہ اپنے مستقبل کے لیے منصوبہ سازی کر رہا
تھا۔اپنی مہرباں ماں کو بتا رہا تھا کہ اس کی ہاؤس جاب مکمل ہو
چکی ہے اور اب وہ کسی اچھے اسپتال میں بطور ڈاکٹر مالزمت
شرع کر کے زندگی کا ایک نیا سفر شروع کرے گا۔۔ لیکن
صرف چند لمحوں بعد ہی اب وہ اسٹریچر پر سفیر چادر
اوڑھے لیٹی اپنی ماں کے پاؤں سے لپٹا اپنی جنت کے کھو
جانے پر ماتم کناں تھا۔میںنے دالسا دینے کے لیے اس کے
کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن زبان نے الفاظ کا ساتھ نہ دیا اور
میںسلمان انور کو روتا چھوڑ کر پل بھر میں زندگی سےروٹھ
جانے والی اس کی والدہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کاؤنٹر کی
طرف چال گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ اتنا اچانک
ہوا تھا کہ مجھے جہاں زندگی کی بے ثباتی کا یقین ہو گیا وہیں
اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کا درس بھی مال ۔ الہور کے رہائشی سلمان انور نے راولپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس
کیا اور وہیں متصل اسپتال سے ہاؤس جاب مکمل کی۔ وہ اپنے
ہاسٹل سے اپنی چیزیں سمیٹنے اپنی والدہ کے ساتھ الہور
سےاسالم آباد آیا تھا اور شہر میں کچھ کام نمٹانے کے بعد
راولپنڈی میڈیکل کالج جا رہا تھا کہ فیصل ایونیو پر واقع اوور
برج پر پہنچا تو اچانک ایک تیز رفتار گاڑی اس کی طرف بڑھی
اور ایک لمحے میں اس کی کائنات اس سے چھن گئی۔پشاور
چرچ میں ہونے والے دھماکے کے خالف مسیحی آبادی نے
جہاں اسالم آباد ہائی وے کو بالک کیا،ٹائرز جالئے گاڑیوں پر
پتھراؤ کیا ان کے شیشے توڑے وہیں اسالم آباد شہر میں مسیحی
برادری کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے پمز کے سامنے فیصل
ایونیو پر واقع فالئی اوور پر جمع ہونا شروع ہوئے تو زیرو
پوائنٹ سے فیصل مسجد کی طرف جانے والی ٹریفک کے لیے
راستہ بالک ہو گیا ۔کچھ گاڑیاں یو ٹرن لے کر واپس زیرو پوانٹ
کی طرف مڑ گئیں تو کچھ ون وے کی خالف ورزی کرتے ہوئے
فالئی اوور کے دائیں سائیڈ پر فالئی اوور کی طرف بڑھنے لگیں
،احتجاجی مظاہرین کی وجہ سے میں بھی گاڑی موڑ ہی رہا تھا
کہ فالئی اوور کے اوپر گاڑیوں کے ٹکرانے کی زور دار آواز
کے ساتھ ہی حادثے کے مناظر نظر آئے۔میں جلدی سے حادثے
والی جگہ پہنچا تو دیکھا دو گاڑیاں بری طرح ٹکرانے کے باعث
تباہ ہو چکی تھیں جبکہ ایک گاڑی سے ایک نیم بےہوش خاتون
کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔خاتون کے ساتھ حواس باختہ دو لڑکے چیخ چیخ کر لوگوں سے گاڑی النے کا کہ
رہے تھے۔میں فوری واپس پلٹا اور گاڑی ال کر زخمی خاتون کو
ان لڑکوں کی مدد سے گاڑی میں ڈال کر پمز اسپتال پہنچایا ۔اس
دوران معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک زخمی خاتون کا بیٹا سلمان
انور اور دوسرا میری طرح راہگیر تھا۔سلمان کے ہونٹ سے بھی
خون بہ رہا تھا لیکن وہ مسلسل اپنی ماں کا گال تھپھتپا رہا
تھا،اس کی رندھی ہوئی آواز بمشکل نکل پا رہی تھی کہ امی آپ
کو کچھ نہیں ہو گا،امی آپ ابھی ٹھیک ہو جائیں گی۔ ماں کی
زندگی لیے پمز کی ایمجرنسی پہنچے تو اسٹریچرز کی عدم
دستیابی کے باعث وہاں موجود لوگوں کی مدد سے انہیں گاڑی
سے نکاال، اٹھا کراندر بھاگے اور اسٹریچر پر لٹا دیا۔ڈیوٹی پر
موجود لیڈی ڈاکٹرز نے نبض دیکھی لیکن وہ معدوم ہو چکی
تھی، انہوں نے اسٹیتھو اسکوپ سے دل کی دھڑکن تالش کرنا
چاہی لیکن مایوسی کے آثار نمایاں تھے۔لیڈی ڈاکٹر نے ہماری
طرف دیکھ کر آئی ایم سوری۔۔شی از نو مور۔۔ کے الفاظ ادا کئے
تو میرے ساتھ کھڑے خاتون کے بیٹے سلمان انور کا دکھ پہاڑ
جتنا ہو گیا اس نے ڈاکٹرز سے التجا کی کہ پلیز اچھی طرح
دیکھیں ،ای سی جی مشین سے چیک کریں اس کی ماں اسے
ایسے اچانک چھوڑ کر نہیں جا سکتی لیکن انہونی ہو چکی
تھی۔ڈاکٹرز اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکنے کی
تصدیق کر چکی تھی۔ چند لمحے پہلے ممتا کی شفقت کے ساتھ
سفر کرنے واال سلمان انور بغیر کچھ کہے اور سنے اچانک خاموش ہوجانے والی ماں کے چہرے پر سفیر چادڑ ڈالے بوجھل
قدموں اور ٹوٹے دل کے ساتھ اسٹریچر کو دھکیلتا ہال میںلے آیا
جہاں وہ ایک لمحے کو رکا اور اس نے مجھے کندھوں سے پکڑ
کر جھنجوڑتے ہوئے سوال کیا کہ پشاورچرچ میں ہونے والے
خود کش حملوں سے اس کا کیا تعلق تھا۔۔ان دھماکوں کے خالف
ہونے والے مسیحی برادری کے احتجاج کی قیمت اس کو اپنی
عظیم ہستی کو کھونے کی صورت میں کیوں چکانی پڑی ہے۔وہ
جس ماں کو اپنے ساتھ والی سیٹ پر بٹھا کر الیا تھا اب اسے
ایمبولینس میں کیسے لے کر جائے گا۔اس کی ہچکی بندھ چکی
تھی لیکن میرے پاس اس کے ان سوالوں کا کوئی جواب نہ تھا۔
پولیس کے نمائندے ابتدائی کاروائی کے لئے پہنچ گئے تھے اور
مطلوبہ معلومات کو تحریری شکل دینے کے بعد اسپتال انتظامیہ
کی طرف سے ڈیٹھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔سلمان انور کو
ماں کی میت کے ساتھ الہور روانہ کرنے کے بعد پمز سے
پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے واقع جیو نیوز کے دفتر جانے کے
لئے نکال تو کلثوم پالزہ چوک کو بھی بیرئیرز لگا کر بند کر دیا
گیا تھا اور ٹریفک کو متبادل راستے پر موڑا جا رہا تھا جبکہ
بیرئیرز کے دوسری طرف مسیحی برادری کے افراد سراپا
احتجاج تھے تب میرا دل چاہا کہ احتجاج کرنے والے ان مسیحی
بھائیوں کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ ان کے اس احتجاج نے کیسے
ہستے بستے ایک گھر کو پل بھر میں اجاڑ دیا ہے۔انہیں بتاؤں
کہ ان کے پیغمبر حضرت یسوع مسیح نے تو امن وآشتی کا درس دیا ہے پھر وہ مشتعل ہو کر اور توڑ پھوڑ کر کے کیوں ایسے
عناصر کو موقع دے رہے ہیں جن کا اصل ہدف ہی تفرقہ بازی
کو ہوا دینا اور بین المزاہب آہنگی کو نقصان پہنچانا
ہے۔انہیںبتاؤں کہ دہشت گردی کی اس آگ میں 04 ہزار بے گناہ
اور معصوم افراد سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 5
ہزار جوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ملک کے دشمن ان
عناصر کے خالف ہمیں زبان، رنگ، نسل اور مذہب سے باال تر
ہو کر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔احتجاج کرنا متاثرین کا حق
ہے لیکن یہ احتجاج پر امن ہونا چاہئیے ،اس دوران قانون کو ہاتھ
میں لینے کی کوشش ہر گز نہیں ہونی چاہئیے اور احتجاج ایسی
جگہ کیا جائے جس سے دیگر لوگ متاثر نہ ہوں ورنہ اگر اپنے
ساتھ ہونےو الی حق تلفی کے لئے آواز اٹھاتے ہوئے پرتشدد کا
راستہ اختیار کیا جائے گا تو ہم نصرت انور جیسی نہ جانے
کتنی اورماؤں کو کھو دیں گے جن کی دعاؤں سے یہ نگر آباد
ہے اور سلمان انور جیسے بیٹوں کو کوئی جواب نہ دے پائیں
گے کہ آخر ان کا قصور کیا تھا۔
تحریر:ارشد وحید چودھری
سینئر کارسپونڈنٹ جیو نیوز اسالم آباد
رابطہ نمبر:40475248030

Iqbal Zafar Jhagra on Peshawar Blast

PMLN Secretary General Iqbal Zafar Jhagra has strongly condemned terrorist attack in Peshawar TODAY and expressed his profound condolence over the death of innocent human lives. He termed such cowardice and inhuman acts as threat to the on going peace process. Jhagra said that the PMLN govt is determined to exterminate all facets of terrorism from its roots and to bring the country back on the track that ultimately leads towards well being and prosperity of the people.

Indian Prime Minister Dr Manmohan Singh in General Assembly.

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کا اقوام ِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

٭ دنیا کوکئی چیلنج درپیش ہیں۔

٭ سرحد پار دہشت گردی سے بھارت کو خدشات لاحق ہیں۔

٭ سلامتی کونسل کو موجودہ سیاسی تناظر میں ڈھالنا ہوگا۔

٭ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ۔

٭ وزیر اعظم نواز شریف سے کل ملاقات کا انتظار ہے ۔

٭ پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔

٭ پاکستان کو ماحول بہتر بنانے کے لئے دہشت گردی کی پشت پناہی اور فنڈنگ بند کرنا ہوگی۔

٭ بھارت اپنی علاقائی سالمیت پر کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

٭ شملہ معاہدے کے تحت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کے لئے سنجیدہ ہیں۔

٭ پاکستان سے ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کو بند کیا جانا چاہیے۔

٭ ہمارے خطے میں دہشت گردی کا مرکز سرحد پار پاکستان میں ہے۔

٭ پاکستان سے ہونے والی دہشت گرد کار روائیوں کو بند کیا جانا چاہیے ۔

٭ عالمی برادری افغان مسئلے کے حل کے لئے افغان عوام سے تعاون کرے ۔

٭ افغانستان تاریخ کے اہم دور پر کھڑا ہے۔

Prime Minister Mohammad Nawaz Sharif in General Assembly.

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا اقوام ِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

٭ جمہوریت کو مستقل نگرانی اور مضبوط ادارے درکار ہوتے ہیں۔
٭ گڈ گورنینس حکومت چلانے کے لئے اہم ہے ۔
٭ پاکستان میں آزاد عدلیہ
٭ امن اور سلامتی میری حکومت کا نصب العین ہے ۔
٭ اقوام ِ متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے ۔
٭ سلامتی کونسل کو مزید جمہوری بنانا ہوگا۔
٭ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتا ہے ۔
٭ پاکستان میں متحرک میڈیا اور مضبوط پارلیمنٹ موجود ہے ۔
٭ کشمیریوں کی آواز سنی جانی چاہیے۔
٭ اقوم ِ متحدہ کو مسئلہ کشمیر کو دیکھنا چاہیے ۔
٭ بھارت کے ساتھ با مقصد اور ٹھوس مذاکرات کے لئے ہر وقت تیار ہیں ۔
٭ کشمیریوں کا حق خود رائے دہی کچلا نہیں جاسکتا۔ اقوم ِ متحدہ جموں کشمیر کے مسئلے پر توجہ جاری رکھے۔
٭ ہم ایک پرامن مستحکم اور مضبوط افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں کوئی ہمارا پسندیدہ نہیں ہے۔
٭ امریکہ سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ڈرون حملے ملک میں جوابی رد ِ عمل پیدا کرتے ہیں۔
٭ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملے بین الاقومی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ ڈرون طیارے پاکستان سے شدت پسندی کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں۔
٭ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی حیثیت سے ہم تحقیف اسلحہ کی پالیسی کی حمایت کرتے رہیں گے ۔
٭ ہمیں امید ہے کہ فلسطین کو 1967کی سرحدوں کے مطابق ریاست بنایا جائے گا۔ ایسی فلسطینی ریاست کے حامی ہیں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
٭ شام کے معاملے پر امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
٭ پشاور حملے نے ہمارے اس عزم کو مزید تقویت دی کہ ہم دہشت گردی کامقابلہ پوری طاقت سے کریں گے۔
٭ ہم عالمی برادری سے امدا د نہیں زیادہ تجارت چاہتے ہیں۔

PMLN on the terrorist attack in Peshawar

معصوم اور قیمتی انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔
پاکستان کے عوام نے ہمیشہ امن کے عمل کی حمایت کی ہے۔
امن کی خواہش کو کمزوری سمجھ لیا جائے تو حالات کسی بھی طرح سے درست سمت میں آگے نہیں بڑھائے جاسکتے۔

پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مشاہد اللہ خان نے پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس پر حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معصوم اور قیمتی انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ حالیہ خود کش حملوں اور دھماکوں سے امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے ۔گزشتہ 14سال سے ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود پاکستان کے عوام نے ہمیشہ امن کے عمل کی حمایت کی ہے لیکن کوئی بھی عمل یکطرفہ طور پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ امن کی خواہش کو کمزوری سمجھ لیا جائے تو حالات کسی بھی طرح سے درست سمت میں آگے نہیں بڑھائے جاسکتے

Prime Minister’s Programe for Youth

Prime Minister’s Programe for Youth

 

PM’s Qarz-e-Hasana Scheme

Brief description Qarz-e-Hasana (microfinance) facility aimed at helping the industry raise current access level of 2.5 million people to 5.0 million in next 5 years.
Eligibility criteria Vulnerable rural and urban poor with a poverty score of up to 40
Focus on women 50% of loans will go to women borrowers.
Geographical spread All Pakistan, preferably limited and un-served areas.
Pricing It is Qarz-e-Hasana and will not carry any mark-up.
Size and number of loans 250,000 loans of Rs.25,000 average
Government Grant 2013-14 Rs.3.5 billion.
Executing agency PPAF through enlisted partner organizations and community organizations having necessary expertise and experience.
Recycling Borrowers will be encouraged to return the loan that will go back to permanent fund available to the community for future lending. Fund will also educate the borrowers to convert from being “takers” to “givers”, so that the fund will continue to grow

 

 

 

 

 

 

 

 

PM’s Small Business Loans Scheme

Brief description Small business loans scheme will focus on unemployed youth, especially educated, looking for establishing new enterprises.
Eligibility criteria All young men/women. Age not more than 35 Years.  Entrepreneurial potential.
Focus on women 50% of loans will go to women borrowers.
Debt-Equity ratio 90:10 with tenor of up to 7 years
Pricing 8% fixed for borrower but government will pay the difference of the cost at KIBOR+500 bps.
Refinancing SBP to explore providing 50% refinance at the risk of participating banks
Risk mitigation Government will share 50% of losses subject to a maximum of 10% of the loan amount
Number of Loans 100,000
Size of Loan Rs.0.5 – 2.0 Million
Average Loan Size Rs.1.25 Million
Allocation in Budget 2013-14 Rs.5 billion
Executing agency NBP and First Women Bank under the guidance and supervision of SBP. Other Banks will be encouraged to join.
Sectors and Products All sectors. Standardized schemes/projects/ undertakings will be designed by SMEDA, projects designed by private sector service provider or individuals themselves

 

 

 

 

PM’s Youth Training Scheme

Brief description Aimed at training the educated youth of Pakistan through internship in private and public sector offices.
Eligibility criteria All those graduates with 16 years of education from HEC approved educational institutions, not more than 25 years of age (26 for less-developed areas).
Geographical spread All Pakistan
Stipend Rs.10,000 per month for 12 months
Number of interns 50,000
Budget Allocation FY 2013-14 Rs.4.0 billion
Executing agency A top class management consulting firm/university from the private sector in collaboration with the Government, will be responsible for the design, placement of internees and their periodic evaluation.
Training program Focal points in each private and public office will be responsible for ensuring effective use of the internees’ services
Areas of training All leading private sector firms and development sector organizations, federal, provincial and local government offices including educational institutions will be offered services of the internees

 

 

 

 

 

 

 

 

PM’s Scheme for Provision of Laptop

Brief description Aimed at spreading the use of computers amongst the college/university level students.
Eligibility criteria All students registered in an HEC approved educational institution. All masters/doctoral students and 50% under-graduate students will get the laptop.
Geographical spread All Pakistan.
Cost per laptop Rs.40,000 approx.
Total number 100,000 students
Budget Allocation FY 2013-14 Rs.4.0 billion
Executing agency Higher Education Commission (HEC)/Ministry of Education and Trainings. To be designed and implemented based on the same pattern and parameters as adopted in the Punjab.
Local manufacturing HEC is negotiating a deal from manufacturers for local assembly of laptop computers, which will become feasible in the face of such high demand from the present scheme as well that from Punjab.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

PM’s Youth Skills Development Scheme

Brief description Aimed at training unemployed youth of Pakistan for acquiring productive skills for gainful employment.
Eligibility criteria All young men/women aged up to 25 years with middle level education shall be eligible.
Geographical spread All Pakistan.
Fees support Rs.3,000 per month for six months
Stipend Rs.2,000 per month for six months.
Number of Trainees 25,000
Budget Allocation FY 2013-14 Rs.800 Million
Executing agency NAVTTC/Ministry of Education and Trainings, in collaboration with Provincial TEVTAs/Federal Government Skills Training Institutes which will also design the program and final evaluation form
Training program Training in standard modules in trades commonly in demand both at home and abroad will be imparted for a period of six months.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

PM’s Scheme for Reimbursement of Fee of Students from the Less Developed Areas 

Brief description Aimed at encouraging pursuit of higher education by students from less developed areas through financing of their tuition fees paid directly to universities.
Eligibility criteria All students registered in Masters/Ph.D programs in an HEC approved public sector educational institution.
Geographical spread Students domiciled in interior Sindh, Southern Punjab (Divisions of Multan, Bahawalpur and DG Khan), entire Balochistan, less developed areas of KP (Malakand, Kohistan and DI Khan), GB  and FATA.
Average Tuition Fees Rs.40,000 per year
Total number 30,000 students
Budget Allocation FY 2013-14 Rs.1.2 Billion
Executing agency Higher Education Commission (HEC) in collaboration with the Ministry of Education and Trainings, which will be responsible for its implementation on the ground

 

PMLN on recent incidents of terrorism in the country

مسلح افواج اور چرچ پر حملوں کا مقصد پاکستان میں قیام ِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے ۔
چرچ پر حملہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش ہے ۔ پاکستان میں جاری امن کی کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی
ماضی کی حکومتوں کے دعوو ¿ں کے برعکس مسلم لیگ (ن) کی حکومت دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے دور رس اثرات کے حامل سنجیدہ اقدامات کررہی ہے ۔
پہلی بار وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے مربوط میکنزم اور جدید سہولیات فراہم کرنے کو ترجیح اول بنایا ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہدا للہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جاری امن کی کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی۔ مسلح افواج اور چرچ پر حملوں کا مقصد پاکستان میں قیام ِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے ۔ کوئی بھی سچا مسلمان اور محب وطن پاکستانی اقلیتوںپر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ انہوںنے ان خیالات کا اظہار پارٹی کے اقلیتی ارکان اور صحافی نمائندوں سے ملاقات کے دوران کیا ۔مشاہد اللہ خان نے کہا کہ چرچ پر حملہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش ہے ۔ ہمارے معاشرے میں مذہب یا مسلک کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں۔ تمام شہری پاکستانیت پر یقین رکھتے ہیں ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ معاشرے میں انتشار پھیلانے والے عناصر کی سرکوبی کے لئے ہم سب کو اتحاد اور یکانگت کا مظاہر ہ کرنا ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت صوبائی حکومتوں کے تعاون سے دہشت گردی کے مسئلے کے مستقل حل کے لئے سازشی اور ملک دشمن عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے دن رات کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کے دعوو ¿ں کے برعکس مسلم لیگ (ن) کی حکومت دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے دور رس اثرات کے حامل سنجیدہ اقدامات کررہی ہے ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پہلی بار وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے مربوط میکنزم اور جدید سہولیات فراہم کرنے کو ترجیح اول بنایا ہے ۔ انشا ءاللہ پاکستان میں جاری امن کی کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی۔

Iqbal Zafar jhagra Statement 21 sep

( 21ستمبر2013ئ)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفرجھگڑا نے کہاہے کہ چین کے ساتھ دوستی اور مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین جزہیں-انہوںنے کہاکہ پاکستان جنوبی ایشیاءکے دیگر ممالک کے ساتھ ملکر خطے میں امن کے قیام اورآئندہ نسلوں کوبے امنی سے نجات دلانے کیلئے مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں-انہوں نے ان خیالات کااظہار چین کے شہر کمنگ میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے زیر اہتمام عالمی یوم امن کے حوالے منعقد کئے گئے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا- واضح رہے کہ ان دنوں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا 12رکنی وفد اقبال ظفر جھگڑا کی سربراہی میں چین کے خصوصی دورے پر ہے- وفد میں سلیم ضیا،صدیق الفاروق،سینیٹر نزہت عامر،ارکان پارلیمنٹ شائستہ پرویز ملک،زہرہ فاطمی،ڈاکٹردرشن لعل،نیلسن عظیم،بریگیڈیئر جاوید،نہال ہاشمی، نگہت یاور علی اور ارسلان حفیظ شامل ہیں-سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اقبال ظفرجھگڑا نے کہاکہ چین اور جنوبی ایشیاءکے ممالک کو میکرواکنامکس پالیسیوں پررابطے کو مضبوط کرنے ،عالمی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی کو بہتر بنانے اور اپنی رائے کا حق دینے باہمی تجارت و سرمایہ کاری کیلئے ایک آزاد اور کھلی فضا پیدا کرنے اور بین الاقوامی برادری کو ترقی پذیر ممالک کی ترقی کیلئے اپنی امداد جاری رکھنے اورعلاقائی اور بین لاقوامی سطح پر اُن پہلوﺅں پر زیادہ توجہ دینے پر آمادہ کرناچاہیے، جن پر اب تک زیادہ توجہ نہیں دی گئی- انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین باہمی تعاون اور دوستی کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ چینی وزیراعظم لی چنگ نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی رواںسال مئی میں سب سے پہلا دورہ پاکستان کا کیا- نوازشریف نے بھی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی چین کواپنے پہلے دورے کیلئے منتخب کیا – اس دوران گوادر سے کاشغرتک اقتصادی راہداری کے منصوبے سمیت 8 دیگر معاہدوں پر دستخط کئے گئے- اقبال ظفرجھگڑا نے کہاکہ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان12ارب ڈالر سالانہ کی تجارت ہو رہی ہے اور موجودہ تعاون کی روشنی میں یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ 2015ءتک باہمی تجارت 15ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی- انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق عدل و انصاف ،مساوات اورشفافیت کے اصولوں کی ہمیشہ پابندی کی ہے اور عالمی مسائل پر دونوں ملکوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے-انہوںنے کہاکہ پاکستان کے عوام چین کے ساتھ دوستی کو اہمیت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس حوالے سے چینی عوام کے پاکستان کیلئے جذبات اور گرم جوشی بھی قابل ذکر ہے – انہوںنے کہاکہ پاکستان جنوبی ایشیاءاور دنیا کو پرامن اور خوشحال بنانے کیلئے چین کے شانہ بشانہ کھڑا ہے-ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ پاکستان اور چین کی موجودہ قیادتیوں کی موجودگی میں دونوں ممالک خطے میں امن اور اپنے عوام کیلئے خوشحالی اور ترقی کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں-

Press Release: Iqbal Zafar Jhagra

اسلام آباد(        )
    پاکستان مسلم لیگ(ن) کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفرجھگڑا کی زیرقیادت میں 10روزہ دورے پر چین کے دورے پر جمعرات کی صبح روانہ ہو رہا ہے۔مسلم لیگ(ن) کا وفدکمیونیسٹ پارٹی اور فورم برائے فروغ امن کے زیر اہتمام بین الاقوامی یوم امن کے ضمن میں دی گئی دعوت پر چین جا رہا ہے۔وفد کے دیگر ارکان میں مسلم لیگ(ن) صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری سلیم ضیائ،سنیئر نائب صدر نوابزادہ چنگیز مری،بریگیڈیئر (ر) جاوید حسن، رکن ومی اسمبلی زہرہ ودود فاطمی،نہال ہاشمی ،ڈاکٹر نیلسن عظیم، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر درشن،سنیئر رہنما صدیق الفاروق، سنیٹر نزہت عامر،رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویزملک اور سیدہ نگہت علی شامل ہیں۔مسلم لیگ(ن) کا یہ وفد اپنے دورے کے دوران چین کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ بین الاقوامی امن ،خطے کو درپیش چیلنجز پر مختلف سیمینارز،مذاکراروں اور ورکشاپس میں شرکت کرے گا۔

Ahsan Iqbal field visit of Karachi Canal Project

·         Prof. Ahsan Iqbal, federal Minister Planning and Development along with Federal Secretary Planning & Development, Chairman WAPDA, Engineering Chief Pakistan Army, DG FW, Chief Secretary Baluchistan , Secretary irrigation Baluchistan and Secretary irrigation Punjab made a field visit and aerial inspection of Karachi Canal project, incomplete for last fifteen years.
·         The inspection started from Sui to Rajanpur , and DG Khan covering 300 kms.
·         The minister received presentations from WAPDA, NESPAc and Government of Baluchistan
·         The minister observed that a project originally costing 39 billion now has to be completed at 88 billion. It happened due to lack of project management skill, vision and dedication.
·         The minister also met the notable members of Baluchistan Assembly of Dera Bugti and assured them full cooperation in development of Baluchistan
·         Prof Ahsan Iqbal gave clear instructions to Planning and Development and to provide all facilitation in Government of Baluchistan in development endeavours. He said, “The government assigns top priority to development of Balochistan and believes in action and delivery unlike previous government whose policy was No action talk only.”
·         The Government will provide full support to complete Kacchi Kanal at earliest and Phase 1 to be completed in 2 years
·         He emphasised on the importance of Project Management using bar charts and PM to measure activity agents.
·         However Minister stated that there will be zero tolerance for corruption and incompetency
·         100,000 acres of land has to be irrigated in Phase 1 as prime gift  to the people of Dera Bugti
·         Further the Kanal will go to Kacchi Plain , including Jhal Magsi are included covering an area of 1.04 million acre, of which 617, 727 acres (59.4% is under cultivation) and the remaining 422,273 acres is lieing barren
·         The project started in 2003 had been paused due to extra expenditure for security cover, extra work involved for construction of head regulator of Kacchi Kanal at contract KC-03, drainage measures under concrete lining in Kc-02 and Kc-04 , surface drain for disposal of flood water along Put Feeder Kanal, Hill torrent management works, additional lining of 25 NOs distributaries and minors under Phase-1 (Dera-Bugti portion).