وزیر اعظم کا دورہ چین

وزیر اعظم محمد نواز شریف ان دنوں عوامی جمہوریہ چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔پاکستان اور چین میں کوئی بھی حکومت ہو اور عالمی حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں ان دنوں ممالک کے خوشگوار تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پاکستان کی صنعتی اور معاشی ترقی میں بھی چین نے ہمیشہ بھر پور مدد کی۔ پاکستان پر جب بھی کوئی کڑا وقت آیا چین نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران صدر آصف علی زرداری نے بار ہا چین کا دورہ کیا ،انہوں نے صدارت کا حلف اٹھاتے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہر تیسرے ماہ چین کا دورہ کریں گے تا کہ پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں چین سے مدد اور رہنمائی حاصل کی جاتی رہے۔ لیکن دورغ نہ گردن راوی کہ زرداری صاحب نے پاکستان کے لیے کم اور اپنے ذاتی کاروبار کو آگے بڑھانے میں ان دوروں سے زیادہ مدد لی۔ پیپلز پارٹی دور میں سوائے گوادرپورٹ کو چین کے حوالے کرنے کے فیصلے کے علاوہ کوئی ایسا بڑا منصوبہ سامنے نہیں آیا کہ جس سے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملتی۔

عوام نوازشریف سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ چین کے حالیہ دورے میں ایسے معاہدے کریں گے جس سے نمایاں طور پر پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے اور خطے میں قیام امن کی کوششوں کو مدد ملے۔اس دورے میں پانی اور بجلی، منصوبہ بندی اور ترقیات، پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزراءکے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی پاکستانی وفد میں شامل ہیں جو اس بات کا مظہر ہیںکہ ان شعبوں سے متعلق اہم پیش رفت ہو گی اور پاکستان کو درپیش توانائی کے بحران اور معیشت کی بہتری کے لیے مدد اور تعاون حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط بھی کئے جائیں گے۔ چین کے سدرن پاور گروپ کے ساتھ نیلم جہلم پاور پروجیکٹ اور توانائی کے حصول کے کئی اورمنصوبوں پر بھی اہم پیش رفت متوقع ہے۔ گوادر سے خنجراب تک موٹر وے اور ریلویز کی تعمیر کے حوالے سے بھی مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کا امکان ہے۔ گوارد بندر گاہ اور بحری تجارت کو فروغ دینے کے لیے کئی تجاویز پر مشاورت اور فیصلوں کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔ گوادر بندر گاہ چین کے حوالے کرنے سے اس خطے میں امریکہ کی نصف صدی سے زائد کی سیاست اور پیش بندیوں کو جو جھٹکا لگا ہے اس سے علاقائی صور تحال پر ہونے والے اثرات کا جائزہ بھی ان ملاقاتوں میں لیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم بیجنگ میں قیام کے دوران چینی کانگریس اور کارپوریٹ لیڈروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ پروگرام کے مطابق وزیر اعظم اور ان کا وفد بیجنگ سے شنگھائی تک بلٹ ٹرین میں سفر کریں گے چین کی یہ تیز رفتار ریل 1200کلو میٹر کی مسافت پونے پانچ گھنٹے میں طے کرتی ہے۔ اس سفر کے دوران پشاور سے کراچی تک بلٹ ٹرین چلانے کے منصوبے کو قابل عمل بنانے کی تجاویز پر بات ہو گی۔

چین نے اپنے ملک میں مواصلاتی نظام کو جس انداز میں ترقی دی ہے وہ حیران کن ہے۔ چین کے بڑے شہروں میں زیر زمین “سب وے”یا”Public Transit”کا نیٹ ورک بچھایا گیا ہے۔1971میں یہ نیٹ ورک صرف دو ٹرینوں پر مشتمل تھا اس وقت اس نیٹ ورک میں تیرہ لائنیں ہیں اور 2020میں ان لائینوں کی تعداد 21ہو جائے گی۔اس طرح پورے بیجنگ میں زیر زمین ٹرین کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ دس سے پندرہ منٹ میں پہنچ سکتے ہیں۔ان ٹرینوں اور بسوں میں کرایہ انتہائی مناسب ہے۔ سفر آرام دہ اور صفائی کا معیار امریکہ اور برطانیہ کے ٹرانسپورٹ سسٹم سے بہت بہتر ہے۔

چین نے اپنے قدرتی وسائل خصوصاً دریاﺅں کے پانی کو آب پاشی اور توانائی کے حصول میںجس طرح استعمال کیا ہے اس تجربے اور تیکنیکی مہارت سے پاکستان بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔چین نے اپنے سب سے بڑے دریا” یانگ سی” پر Three Gorges Damبنا کردریا کا رخ موڑ دیا دیاہے۔ مون سون میں گارجز ڈیمز کی بدولت اتنا پانی ذخیرہ کر لیا جاتا ہے تا کہ کروڑوں عوام اور لاکھوں ایکٹر رقبے پر کاشت فصلوں کو سیلاب کی تبائی سے بچا لیا جائے ۔دریائے یانگ سی پر تعمیر ہونے والے اس ڈیم کی وجہ سے دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام بنایا گیا ہے۔ یہ نہری نیٹ ورک چین کے صحرائی علاقوں کو آباد کرنے میں حیران کن کردار ادا کر رہا ہے۔بعض تجربہ نگاروں کا خیال ہے کہ دیوار چین کے بعد تھری گارجر ڈیم کی تعمیر اور اس سے نکلنے والا نہری نظام مستقبل میں دنیا کا عظیم عجوبہ شمار کیا جائے گا۔ تین بڑے دیو ہیکل پہاڑوں میں غاریں بنا کر دریا کا رخ موڑنے کا اتنا بڑا منصوبہ دنیا بھر کے لئے حیران کن ہے۔ پاکستان چین کے اس کامیاب تجربے کی بناءپر دریائے سندھ کا رخ موڑ کر پاکستان کے کوہستانی اور صحرائی علاقوں کو آباد کر سکتا ہے۔

بیجنگ اور چین کے دوسرے بڑے شہروں میں شجر کاری کا عمل جنون کی حد تک ہے۔ بیجنگ کا شمار دنیا کے ان چند شہروں میں کیا جاتا ہے ۔ جہاں سب سے زیادہ درخت اورسبزہ نظر آئے گا۔ سڑکوں کے کنارے ہر رنگ کے ترو تازہ پھول ملیں گے۔ سردیوں میں برفباری کے آغاز سے پہلے پودوں کو محفوظ کرنے کے لیے انہیں جڑ سے اکھاڑ کر زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے اور موسم تبدیل ہونے کے ساتھ ہی انہیں نکال کر لگا دیا جاتاہے۔اس طرح پودے سردی کی شدت سے نہیں مرتے۔

دارالحکومت بیجنگ اور دوسرے کئی شہروں میں سٹریٹ لائٹس سولر انرجی کی مدد سے چل رہی ہیں ہر کھمبے پر سولر سیل لگا ہوا ہے۔ دیکھنے، سمجھنے اورآگے بڑھنے کے لیے ہمارے پاس چین ایک کھلی راہنماکتاب ہے۔ چین نے آزدی قیام پاکستان کے دو سال بعد 1949میں حاصل کی اور بقول اقبال©”گراں خواب چینی سنبھلنے لگے” لیکن ہم چھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ سنبھل سکے ہیں۔کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہم صرف توانائی کے بحران کو سامنے رکھتے ہوئے چین کی طرز پر اپنے شہروںکی سٹریٹ لائٹس ، مارکیٹس اور گھروں کے باہر روشنی کے لیے سولر پروجیکٹ ہی شروع کر دیں۔یہ کام بلدیاتی ادارے اور صوبائی حکومتیں اور اسلام آباد کی انتظامیہ نجی شعبے کے تعاون سے با آسانی کر سکتی ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ اب کی بار وزیر اعظم نواز شریف اور ان کا وفد چین کے اس پانچ روزہ دورے کے بعد اپنے عزم کو کس حد تک قابل عمل بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔