میاں نواز شریف صاحب ثابت قدم رہیں

تاریخ مواقع فراہم کرتی ہے وژنری لیڈر ان تاریخی مواقع کو ریاست کے استحکام کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ بلاشک بھٹو شہید ایک وژنری لیڈر تھے مگر انہوں نے سقوط ڈھاکہ کے بعد تاریخی موقع ضائع کردیا اور حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی سفارشات کے مطابق آمر جرنیلوں کا احتساب نہ کیا۔ تاریخ نے ان کو افسوسناک مثال بنا دیا ان کا خیال تھا کہ انہوں نے آئین میں آرٹیکل نمبر 6 شامل کرکے آمریت کا راستہ ہمیشہ کیلئے روک دیا ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ صرف آئین لکھنے سے نہیں بلکہ اسکے حرف حرف پر عمل کرکے ہی آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کی جاسکتی ہے۔ نواز شریف نے بھی کارگل آپریشن کے بعد جنرل پرویز مشرف کا ٹرائیل نہ کرکے تاریخی موقع ضائع کردیا۔ تاریخ نے انکو بھی معاف نہ کیا۔ جرنیلوں کو معاف کیا گیا۔دیوانے خدائی انتقام کو سیاسی انتقام کا نام دے رہے ہیں۔ مقتدر جرنیلوں نے جنرل مشرف کو صائب مشورہ دیا کہ وہ پاکستان واپس نہ آئیں مگر رب کائنات اسے رسوا کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ رب نے آمر کے دماغ میں یہ وہم ڈال دیا کہ وہ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے۔ جنرل مشرف کی پاکستان واپسی ہی اسکی نااہلی کا ثبوت ہے۔ پاکستان میں سفارش کے کلچر کی وجہ سے نا اہل فوجی افسر آرمی چیف بنتے رہے۔ اگر سروس ریکارڈ کی بنیاد پر آرمی چیف تعینات کیے جاتے تو جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کسی صورت آرمی چیف نہیں بن سکتے تھے۔ سفارشی کلچر کا خمیازہ قوم اور ریاست کو بھگتنا پڑا۔

جن کے سینوں میں آمریت کے بت ہیں اور وہ جمہوریت کے ازلی مخالف ہیں وہ آمر کو بچانے کیلئے حیران کن تاویلات پیش کررہے ہیں۔ برادرم سعید آسی صاحب نے آمریت کے ان حواریوں کے بارے میں شاہکار کالم لکھے ہیں۔ آمریت کے پجاری بودی اور عیارانہ دلیلوں کے ساتھ اس قائد کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیںجس سے 1999ءمیں جرنیلوں نے استعفیٰ مانگا تو اس نے جرنیلوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حرف انکار بلند کیا۔ عوام کا مقبول لیڈر چودہ سال تک آمر جرنیل کو للکارتا رہا اور آئین کی حکمرانی کا دعویٰ کرتا رہا۔ آج جبکہ آمر خود ہی مکافات عمل کا شکار ہوچکا ہے اور آئین و قانون کے شکنجے میں پھنس چکا ہے۔ تیسری بار منتخب ہونیوالے وزیراعظم سے مختلف حیلے بہانوں سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ آئین شکن آمر کیخلاف آرٹیکل نمبر 6 کے تحت مقدمہ نہ چلایا جائے۔ گویا تاریخ نے ایک بار پھر ریاست کو مستحکم بنانے کا جو موقع فراہم کیا ہے میاں صاحب سیاسی بلوغت کے بعد بھی اسے ضائع کردیں۔ جنرل مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ عدلیہ میں پہلے ہی چل رہا تھا۔ نگران حکومت نے موقف اختیار کیا کہ اسے جنرل مشرف کیخلاف مقدمہ چلانے کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔ 11 مئی کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ حاصل کرنیوالی منتخب حکومت نے درست موقف اختیار کیا کہ وہ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق پاکستان کے آئین کی روشنی میں آمر جرنیل کیخلاف مقدمہ چلانے کیلئے خصوصی عدالت قائم کریگی۔

بعض دانشور متضاد تجزیے پیش کررہے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جمہوریت کے چیمپئن ہیں اور اسی لمحے جنرل مشرف کے دفاع میں گول مول دلائل بھی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے افراد جن کی جمہوریت میں دال نہیں گلتی اور آمریت میں خوب پھلتے پھولتے ہیں مختلف حیلے بہانوں سے جنرل مشرف کو بچانے کی تگ و دو کررہے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت مخالفوں کی کمی نہیں ہے جو بااثر اور باوسائل ہیں وہ پوری کوشش کریں گے کہ پروپیگنڈہ کی طاقت سے وفاقی حکومت کو مجبور کردیں کہ وہ جنرل مشرف کیخلاف بغاوت کا مقدمہ واپس لے لے یا تاخیری حربوں سے اسے سردخانے میں ڈال دے۔ اگر عوام ثابت قدمی کیساتھ منتخب حکومت کیساتھ کھڑے رہے تو جمہوریت مخالف کبھی اپنے مذموم ہتھکنڈوں میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ بڑے زور و شور سے پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ سابق آرمی چیف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے سے ”پنڈورا باکس“ کھل جائیگا۔ ایسے بیانات حکومت کو خوف زدہ کرنے کیلئے جاری کیے جارہے ہیں۔ جب خصوصی عدالت میں مقدمہ صرف 3 نومبر 2007ءکے آئین شکن اقدامات کے بارے میں چلایا جائیگا اور عدالت مقدمے کی حدود کے اندر رہتے ہوئے سماعت کرے گی تو پنڈورہ باکس کھلنے کے امکانات کیسے پیدا ہونگے۔

پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے جو متفقہ آئین کی طاقت سے چل رہی ہے۔ پاکستان نہ تو رئیل سٹیٹ ہے اور نہ ہی بنانا ری پبلک (Banana Republic) ہے کہ مجرموں کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔ قومی ہیروز اور قومی مجرموں کے درمیان فرق ہی باقی نہ رہے۔ جنرل پرویز مشرف کے جرائم کی فہرست طویل ہے انہوں نے منصوبہ بندی کرکے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا۔ کارگل کی مہم جوئی کرکے ہزاروں فوجی جوان شہید کرادئیے۔ ایک فون کال پر پاکستان کی خودمختاری فروخت کردی۔ 2002ءکے انتخابات کے بعد نیب کو استعمال کرکے پی پی پی کے اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرا لیں۔ پاک فوج کو اپنے ہی شہریوں کے مقابل کھڑا کردیا۔ امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دی۔ لال مسجد کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ آمر کے دور میں پاکستان کے شہری لاپتہ ہوئے۔ اسکے ہاتھ اکبر بگٹی شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار درجنوں جج نظر بند ہوئے۔ ایسا آمر جو رضا کارانہ طور پر آئین اور قانون کی گرفت میں آچکا ہے اسے کیوں چھوڑ دیا جائے۔ اگر قومی مجرم آئین شکن آمر کو چھوڑ دیا جائے تو پھر ہزاروں چھوٹے مجرموں کو جیلوں میں کیوں بند رکھا جائے۔

منصوبہ بندی کے ساتھ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ جنرل مشرف کیخلاف مقدمہ چلانے کیلئے حالات ساز گار نہیں ہیں۔ یہ مقدمہ منتخب حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ اس سے دوسرے اہم قومی امور متاثر ہونگے۔ یہ دلیل تاریخی تناظر میں انتہائی ناقص اور بے بنیاد ہے۔ تاریخ کا سبق یہ کہ پاکستان آئین و قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ہی بحرانوں کا شکار ہے۔ اگر آئین اور قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جاتا تو بااثر افراد کبھی بجلی چوری نہ کرتے اور آج عوام لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نہ گزر رہے ہوتے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بااثر افراد قانون کی طاقت سے بچ جاتے ہیں جبکہ غریب عوام ہی قانون کے شکنجے میں آتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں آئین کی حکمرانی کا آغاز کرنے کیلئے لازم ہے کہ آئین توڑنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔ ریاست کے ادارے اور وزارتیں اپنے اپنے فرائض ادا کررہے ہیں۔ آرٹیکل نمبر 6 کے تحت مقدمہ چلانا وزارت قانون کا کام ہے جبکہ انرجی کیلئے بجلی اور پانی کی وزارت ، معیشت کیلئے خزانہ کی وزارت اور دہشت گردی کیلئے وزارت داخلہ موجود ہے۔ جنرل مشرف کیخلاف جس طرح اکبر بگٹی اور بے نظیر کے قتل کا مقدمہ چلے گا اسی طرح آرٹیکل نمبر 6 کے تحت مقدمہ چلتا رہے گا۔ آئین اور قانون اپنا راستہ خود بنائینگے۔ آمریت کے پجاری اس قدر بے چین کیوں ہورہے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان کو فوج کے جوانوں نے بھی ووٹ دئیے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو عسکری انتخابی حلقوں (جہلم، چکوال) میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پاک فوج کسی فرد واحد کے ساتھ نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ہے۔ اگر کوئی سابق جرنیل اپنے غیر آئینی اقدامات کی بناءپر انصاف کے کٹہرے میں آتا ہے تو اس کے اثرات سلامتی کے قومی ادارے پر کبھی مرتب نہیں ہوں گے۔ میاں نواز شریف نے عوام کی امنگوں کے مطابق آئین کے دفاع کے لیے جو قدم اُٹھایا ہے اس پر ثابت قدم رہیں۔ ان کا یہ دانش مندانہ فیصلہ بھی موٹر وے اور ایٹمی دھماکوں کی طرح تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

(تحریر:قیوم نظامی ۔(بشکریہ ۔نوائے وقت