ملالہ، شمالی وزیرستان آپریشن اور قومی کنفیوژن

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں

کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے

صدر آصف زرداری نے شمالی وزیرستان آپریشن کے امکانات کو رد کرتے ہوئے تسلیم کیاہے کہ انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے سے پہلے ملک میں اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی ضرروری ہوتا ہے جو اب ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر اتفاق رائے سے کسی آپریشن کا شروع کرنا خطرات سے خالی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو آپریشن شروع کرنے کا مشورہ دے رے ہیں انہیں یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ ملک میں کتنے مدرسے ہیں اور انہیں متحد ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔

 ہمارے صدر صاحب نے آخر کار مان ہی لیا کہ شمالی وزیرستان آپریشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں مگر ملک میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ آپریشن کرنا ممکن نہیں مگر سوال یہ ہے کہ عوامی اتفاق رائے پیدا کرنا کس کا کام ہے ؟ حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر شمالی وزیرستان آپریشن کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرنے کی حماقت کیوں کی اور ہر بار حکومت بجائے قوم میں اتفاق پیدا کرنے کے مزید انتشار کا باعث کیوں بنتی ہے؟

پاکستان واپسی کے اتنے سالوں بعد جو چیز مجھے سب سے زیادہ تکلیف دہ لگی وہ ایک قومی کنفیوژن کا رویہ ہے جو مجھے ہر اہم معاملے میں دکھائی دیا۔ پاکستان جو گزشتہ کئی دہایﺅں سے بالعموم اور دہشت گردی کی جنگ کے بعد بالخصوص انتہاءمشکل دور سے گزر رہا ہے، ایسے وقت میں کڑے فیصلے کرنے کے لیے قوموں کے اندر یکجہتی کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اتنے سالوں میں مجھے سوائے کرکٹ میچوں کے کسی معاملے پریہ قوم متحد دکھائی نہ دی۔ ہر اہم معاملے پر ایک انتہائی جذباتی اور افراط و تفریط کا رویہ نظر آتاہے، حال ہی میں سوات کی پندرہ سالہ ملالہ یوسف زئی پر حملے کے بعد بھی یہی رویہ نظر آیا کہ ایک طبقہ اس معصوم بچی کو ہدف بنانے پر تلا ہوا ہے۔ جبکہ دوسرا اسے گمراہ اور مغربی طاقتوں کی نمائندہ قرار دے رہا ہے۔ اور پھر اچانک ہی شمالی وزیرستان پر حملے کی باتیں شروع ہو گیئں۔ وزیرداخلہ رحمان ملک صاحب نے ملالہ پر حملہ کرنے والوں کے متعلق کہا کہ ان کے پاس حملہ آوروں کی تمام تفصیلات موجود ہیں، یہ حملہ سوات کے مولوی فضل اللہ نے کروایا ہے جو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ خود بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں شائع رپورٹ میں کہا گیا کہ ملالہ حملے کے پیچھے ملا ریڈیو ( مولوی فضل اللہ ) کا ہاتھ ہے۔ ملالہ کو قتل کرنے کا حکم دینے والے طالبان رہنما مولوی فضل اللہ کا مقصد توجہ مبذول کرانا تھا۔ملالہ پر حملہ سے اس کی ختم ہوتی شناخت کو کچھ زندگی مل جائےگی۔ مولوی فضل اللہ نے چار حملہ آوروں کو ہدف دیا ‘ملالہ کی معلومات حاصل کرنے اور حملہ کی منصوبہ بندی میں کئی ہفتے لگے۔

سوال یہ ہے کہ جب ہماری حکومت کے پاس مکمل تفصیلات ہیں اور بین الاقوامی میڈیا بھی اس کی تصدیق کر رہا ہے کہ افغانستان سے مولوی فضل اللہ نے ملالہ پر حملہ کروایا ہے تو حکومت نے اب تک اس ظالمانہ عمل پرنیٹو اور امریکہ سے سخت احتجاج کیوں نہیں کیا اور مولوی فضل اللہ کے خلاف کاروائی یا اسے پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ جب حکومت خود قوم کو بتا رہی ہے کہ ملالہ پر حملہ افغانستان سے کروایا گیا ہے تواچانک ہی شمالی وزیرستان میں آپریشن کی باتیں کیوں شروع ہوگئیں ؟

 ہم سب جانتے ہیں شمالی وزیرستان آپریشن امریکہ کا ایک دیرینہ مطالبہ ہے، امریکہ خود تو طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے اور دو ہزار چودہ سے پہلے ہر قیمت پر طالبان سے ایک امن معاہدہ چاہتا ہے مگر پاکستان کے انتہا پسندوں سے معاہدوں کے سخت خلاف ہے۔ پاکستان میں مخالفت کے باوجود خود قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے بھی کر رہا ہے اور پاکستان پر شمالی وزیرستان آپریشن کے لیے دباو ڈال رہا ہے۔ ملالہ حملے کے بعد پاکستان پر شمالی وزیرستان آپریشن کے لیے دباو بڑھایاگیا اور یہ بات اتنے تواتر سے کہی گئی کہ امریکہ کے افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی سفیر مارک گراسمین کو آرمی چیف جنرل پرویز کیانی سے ملاقات کے بعد یہ کہنا پڑا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ان کے دورئہ پاکستان کا مقصد پاکستان کو شمالی وزیرستان میں طالبان اور شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائی پر مجبور کرنا ہے۔

امریکہ پاکستان پر یہ بھی الزام لگاتا ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج پر حملہ کرنے والے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جبکہ سوات آپریشن کے بعد افغانستان پناہ لینے والے مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھی ، اسی طرح بلوچستان کے علیحدگی پسند رہنماوں کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، دو ماہ قبل وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کہہ چکے ہیں کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کی قندھار میں 24 تربیت گاہیں موجود ہیں جہاں سے انہیں تیار کر کے بلوچستان میں تخریبی کاروایﺅں کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اس کے باوجود پھر کیا وجہ ہے کہ حکومت اتنی سنگین صورتحال پر بھی صرف بیان جاری کر کے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتی ہے۔ ابھی توسلالہ کے زخم بھرے نہیں تھے کہ پاکستان کی ملالہ پر افغانستان سے بھیجے گئے انتہا پسندوں نے حملہ کر دیا اور پاکستانی حکومت نہ تو امریکہ اور نہ ہی افغانستان کی حکومت سے کوئی سخت احتجاج کر سکی ہے۔ الٹا افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کو خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ طالبان کا پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ پاکستان کو باور کروائے گا کہ کسی اور کے خلاف انتہاپسندی کو بطور حربہ استعمال کرنا خود اس کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ اس بیان سے پاکستان کی دہشت گردی کی جنگ میں دی گئی قربانیوں کی وقعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج حامد کرزئی جیسے کٹھ پتلی حکمران بھی پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

اس قومی کنفیوژن میں قوم کا شاید اتنا قصور بھی نہیں جب انہیں ہر اہم معاملے پر اندھیرے میں رکھ کر بالا ہی بالا تمام معاملات طے کر لیے جاتے ہوں تو قوم بے چاری کیا کرے۔ جس ملک میں منتخب نمایئندوں کو اہم قومی معاملات پر فیصلے کرنے کے بجائے اربوں روپے کے فنڈ رشوت کے طور پر دےکر سڑکوں اور گٹرلایئنوں کی مرمت پر لگا دیا جائے، اور ان کی دلچسپیاں صرف اپنے حلقوں میں مرضی کے تھانیداروں اورپٹواریوں کو لگوانے تک محدود ہوں تو پھر قومی معاملات کا یہی حال ہو گا جو آج ہے۔ جہاں پارلیمنٹ کی قراردادوں کی اہمیت کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ نہ ہو۔ چالیس سال پہلے فیض نے جس بات کا گلہ کیا تھا آج بھی پارلیمنٹ کے وہی حالات ہیں

تیرے ایوانوں میں پ±رزے ہوئے پیماں کتنے

کتنے وعدے جو نہ آسودہ اقرار ہوئے

ڈرون حملوں کے خلاف منظور ہونے والی قراردادوں کا کیا ہوا آج کسی کو یاد بھی نہیں اور خود پارلیمنٹ کے نمائندوں نے کبھی اپنی قراردادوں کی بے وقعتی پر احتجاج کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ جب کسی معاملے پر قوم کے نمائندے ہی لاتعلق ہوں تو پھر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر زیادہ حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے۔