وہ پی ایم ہیں، پی این نہیں۔ ہم نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کی ہے اوی

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وہ پی ایم ہیں، پی این نہیں۔ ہم نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کی ہے اور کسی صورت آئین کی خلاف ورزی کرنا نہیں چاہتے لیکن خط لکھنا آئین سے غداری ہوگا۔ توہین عدالت کی کارروائی کرنی ہے تو پوری پارلیمینٹ کے خلاف کی جائے۔ صدر زرداری کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے سے بہتر ہوگا کہ میں سیاست چھوڑ دوں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خط لکھنا آئین سے غداری کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا موت ہے۔ یہ امر ایک حقیقت ثابتہ کے طور پر ہمارے سامنے ہے کہ یہ ملک قائداعظم محمد علی جناح کی طویل جدوجہد اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت کے باعث جمہوری طریقے سے معرض وجود میں آیا۔ قائداعظم ہمیشہ آئین و قانون کی پابندی کرتے ہوئے اسے دل و جان سے تسلیم کرتے کیونکہ یہی جمہوریت کی بنیاد ہے اور قیام پاکستان کے بعد پہلے ہی روز سے یہ امر قائداعظم نے دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا تھا کہ یہاں آئین و قانون کی پابندی کی جائے گی۔ اگر آئین و قانون کے مطابق فیصلے سے ایک فریق کو فائدہ پہنچتا ہے تو دوسرا دکھ اور غم تو ضرور محسوس کرتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کی جائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اگر وزیراعظم کو ذاتی طور پر دکھ پہنچا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آئین و قانون کی بالادستی کو پامال کیا جائے۔ یہ بالادستی بہرحال قائم رہنی چاہئے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تسلیم کیا جانا چاہئے البتہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وکلاء کے ذریعے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرسکتی ہے یہی آئین و قانون کے مطابق طریقہ ہے۔ وزیراعظم عرصہ تک اس مسئلے پر مہر بلب رہے لیکن اب یکدم انہوں نے جو رویہ اختیارکیا ہے وہ بلاشبہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور اس میں کافی تضادات پائے جاتے ہیں۔ وسیع تر قومی و ملکی مفادات کا تقاضا یہ ہے کہ آئین و قانون کی بہرحال پاسداری کی جائے، اس کی پذیرائی جمہوری فکر و عمل کے زمرے میں آتی ہے۔ صدر اور وزیراعظم سے لیکر ملک کے ایک عام شہری تک سب پر آئین و قانون کی پابندی لازمی ہے، اسی سے جمہوریت کے استحکام کی جانب مثبت اور کامیاب پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم کے اس بیان پر مختلف سیاستدانوں، ماہرین قانون، مبصرین اورتجزیہ نگاروں کا جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ بھی وزیراعظم کے موقف کی نفی کرتا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عدالت عظمیٰ کا مذاق اڑانے لگے ہیں ،وہ خود کو قربانی کا بکرا صرف اس لئے بنانا چاہتے ہیں کہ بیرون ملک قائم کرپشن کے مقدمات دوبارہ نہ کھلنے پائیں۔ آئینی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم کا استدلال درست نہیں، خط نہ لکھنا ایک سیاسی فیصلہ ہے اور اس سے عدالت عظمیٰ پر پارلیمینٹ کی بالادستی کا غلط تاثر سامنے آتا ہے۔ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو براہ راست للکارنے کی کوشش کی ہے ،وہ قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کے حق میں نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم نے جو کچھ کہا وہ ہرگز درست نہیں۔ وہ اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ میں پارٹی کے فیصلوں کے خلاف نہیں جاسکتا اورپارٹی کا فیصلہ ہے کہ خط نہ لکھا جائے، یہی بات صدر زرداری بھی اپنے ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں گویا صدر اور وزیراعظم دونوں کا موقف اس مسئلے پر ایک سا ہے ۔ صدر کا بھی کہنا تھا کہ ہم آئین کی بات نہیں کر رہے ہم پارٹی کے فیصلے کے خلاف نہیں جائیں گے۔اس پس منظر میں یہ امر ایک حقیقت ثابتہ کا درجہ رکھتا ہے ایک عام آدمی بھی یہی کہے گا اور اسے پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے کہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کو ماننا وزیراعظم سے لے کر ایک عام شہری تک سب کا فرض ہے لیکن وزیراعظم نے آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی باتیں بھی کہی ہیں کہ گویا سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی آئین و قانون کا مطلب معلوم نہیں۔ حکومت کے طر ز عمل کے باعث عرصہ سے آئین کی پاسداری کرنے والے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت اس قسم کی باتیں کرکے کسی ایسی کارروائی کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے جس سے اسے سیاسی شہید کا درجہ مل جائے تاکہ آئندہ انتخابات میں وہ آہ و زاری کرتے ہوئے یہ کہہ سکیں کہ انہیں آئینی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، ہم جمہوری راستے کے مظلوم اور شہید ہیں۔ اسی لئے وزیراعظم بار بار کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں آئین و قانون کے مطابق کوئی آرڈر دیا جاتا ہے تو وہ اس کی بجائے وہ پارٹی کے فیصلے کومقدم سمجھیں گے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہر سیاسی جماعت اور ہر حکومت یہی طرز عمل اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی حیثیت کو چیلنج کرنے کی راہ اختیار کرے تو اس سے ملک کے اندر لاقانونیت، بدامنی اور سیاسی انتشار کو فروغ ملے گا جو ملک کے لئے انتہائی بدقسمتی اور بدنصیبی کی بات ہوگی ۔لہٰذا ہم حکومت سے کہنا چاہیں گے کہ وہ تصادم کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے آئین و قانون کی پابندی کرے۔ وزیراعظم کے کئی بیانات سے یہ تاثر سامنے آتا رہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لئے تیار نہیں، وہ صرف پارٹی کے فیصلوں کی پابندی کو لازمی سمجھتے ہیں بلکہ آئین و قانون بھی ان کے نزدیک وہی درست ہے جسے ان کی پارٹی درست تسلیم کرتی ہے۔ اس میں وہ سپریم کورٹ کے ججوں کا کوئی اختیار تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ظاہر ہے کہ یہ بے حد خطرناک طرز عمل ہے۔ وہ خود ہی کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے مطابق طویل ترین عرصہ تک وزیراعظم کے منصب پر فائز چلے آرہے ہیں لیکن خط لکھنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق جو باتیں انہوں نے کی ہیں وہ کسی طور پر بھی مناسب اور قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتیں، نہ انہیں وزیراعظم کے شان شایان قرار دیا جاسکتا ہے۔ اللہ خیر کرے کہ وزیراعظم پر توہین عدالت کے مقدمے کے حوالے سے بہتری اور مفاہمت کا کوئی راستہ نکل آئے اور حکمران جماعت معقولیت کا راستہ اختیار کرے تاکہ قوم خطرناک نتائج سے محفوظ رہ سکے۔وزیراعظم کا موقف دوسرے سیاسی لیڈروں کے لئے بھی کوئی قابل رشک مثال کا درجہ نہیں رکھتا ۔اگر ہر سیاست دان آئین وقانون کے خلاف اٹھ کھڑا ہو تو یہ انداز فکر حد درجہ نامناسب، ناقابل قبول اور ناقابل فہم ہوگا بلکہ اس سے اجتناب ہی قومی مفادات سے مطابقت رکھتا ہے۔ حکمران جماعت اور وزیراعظم کو جان لینا چاہئے کہ سیاست اور اقتدار دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ملک وقوم کے لئے صرف آئین و قانون کی پابندی ہی سلامتی و بقا کا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح ان کا وقاربھی قائم رہ سکتا ہے، پوری دنیا میں آئین و قانون کی پاسداری کو لازمی تسلیم کیا جاتا ہے لیکن وزیراعظم گیلانی نے اپنے زیر نظر بیان میں جو کچھ کہا وہ نہ صرف حد درجہ ناقابل فہم ہے بلکہ انتہائی باعث تشویش بھی ہے۔ آئین میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر عملدرآمدکرنے کی پابند ہے۔ آئین کا یہی پہلو عدالت عظمیٰ کی بالادستی کا تصور اجاگر کرتا ہے، اگر حکمرانوں نے اس کے باوجود عدالت عظمیٰ سے محاذ آرائی اور تصادم کا راستہ اختیار کرلیا تو یہ کسی بھی لحاظ سے ملک و قوم کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔