سرکاری کارپوریشنوں کی سٹریٹیجک گورننس

پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج (PASC) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (NIPA) کو ملا کر چند سال پہلے نیشنل مینجمنٹ کالج (NMC) بنا دیا گیا۔ اس ادارے میں مرکزی اور صوبائی سول سروس کے اعلیٰ آفیسران کو قومی پالیسیاں بنانے اور پھر ان کو لاگو کرنے کی حکمت عملی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ ان آفسران کو Strategic Management، لیڈر شپ اور حکمرانی کے بہترین معیار کیلئے ضروری بنیادی اصولوں سے روشناس بھی کروایا جاتا ہے۔

چند دن پہلے مجھے کالج کی انتظامیہ کی طرف سے 72 افسران پر مشتمل مینجمنٹ کالج کے 13ویں “Senior Management Course” کو خطاب کرنے کیلئے لاہور آنے کی دعوت دی گئی اور کہا گیا کہ میں “Strategic Governance of State Owned Enterprises (SOEs)”کے موضوع پر اظہار خیال کروں اور سینئر آفیسران کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات بھی دوں۔ اپنے اظہار خیال میں دوران گفتگو میں نے جن نقات کو اٹھایا ان کا مختصرتذکرہ میں آج کے کالم میں بھی کر رہا ہوں۔ سینئر مینجمنٹ کورس کے ممبران کو بتایا گیا کہ SOEs وہ قانونی ادارے ہیں جن کو حکومتیں خود تشکیل اس لئے دیتی ہیں تاکہ وہ خود ملک کے اندر کمرشل سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں ان میں سے بہت سے ادارے مکمل یا جزوی طور پر حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کوئی 200سے زیادہ ایسے کاروباری چھوٹے بڑے ادارے ہیں جن کے چلانے میں حکومت خود ملوث ہے۔ ان میں قابل ذکر ادارے پی آئی اے، ریلوے، سٹیل ملز، یوٹیلٹی سٹورز، واپڈا، این ایچ اے اور ٹریڈنگ کارپوریشن وغیرہ ہیں، جن کی حالت نا گفتہ بہ ہے چونکہ یہ سالانہ سرکاری خزانے سے پبلک کے تقریباً 500 ارب روپے یا 5 بلین ڈالرز چاٹ رہے ہیں۔

موجودہ جدید معاشی دور کا جو Buzz Word ہے وہ نجکاری ہی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ Governments have no business to do business یعنی حکومتوں کو ہر حال میں خود کاروبار میں ملوث ہونے سے اجتناب کرنا چاہیئے اسی لئے ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ Governments should be invisible۔ نجکا ر ی ملکی معیشت کو موثر طریقے سے چلانے کیلئے ایک ہر دلعزیز فلاسفی ہے ۔ حکومتوں کو اچھی حکمرانی کرکے ملکی حالات کو بہترین اور سازگار بنانا چاہیئے تاکہ صاف ستھرے پر امن ماحول میں بیرونی سرمایہ کارآکر سرمایہ کاری کریںاور ملکی صنعت کار بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکیں۔

پاکستان میں نجکاری کے تصور کو میاں محمد نواز شریف نے 1991 میں اپنے سب سے پہلے دور حکومت میں روشناس کروایا۔ جس کی امریکی صدر نکسن نے اپنی کتاب “Seize The Moment” میں تعریف کی ۔ اسکے بعد بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی نجکاری کی پالیسی پرعملدرآمد جاری رہا۔1997 میں میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں بھی نجکاری کو ملکی معیشت کیلئے مفید سمجھا۔ شوکت عزیز بھی ہمیشہ نجکاری، فری مارکیٹ معیشت اور ڈی ریگولیشن کی بات کرتے رہے لیکن ساتھ ہی مخصوص ملکی حالات کی بدولت گورنمنٹ یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا، چینی اور دالیں بھی بیچتی رہی ۔ انکے دور حکومت میں بینکوں، پی ٹی سی ایل اور پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری ہوئی جو متنازع اس لئے نہیں بنی کہ لوگ نجکاری کے اصول کیخلاف تھے بلکہ اس لئے کہ نجکاری کا عمل شفاف نہ تھا۔ لیکن آج بھی ایک طبقہ فکر ایسا ہے جو آنکھیں بند کرکے ملک کے ہر ادارے کو بیچ دینے کے حق میں نہیں۔ ان لوگوں کے دلائل کچھ یوں ہیں۔

۱)جو کرپٹ اور نالائق حکومتیں ادارے چلا نہیںسکتیں وہ نجکاری کے عمل میں بھی ضرور ڈنڈی مارتی ہیں ۔ ۲)کسی بھی ادارے کے نفع بخش ہونے یا نہ ہونے کا دارومدار اس بات پر نہیں ہوتا کہ وہ پبلک یا پرائیویٹ سیکٹر میں ہے بلکہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے سارے اداروں کے منافع بخش ہونے کا دارومدار اچھی اور قانون کی حکمرانی پر ہوتا ہے۔ پی آئی اے، پاکستان ریلوے اور سٹیل ملز جیسے ادارے سرکاری ہاتھوں میں رہ کر بھی منافع بخش رہے اور KESC، Zeal Pak Cement اور PTCL جیسے ادارے نجکاری کے بعد بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔۴)امریکہ جیسے ملک میں بھی Unicol Oil Company اور سیمی کنڈکٹر کی کمپنی کی چین کے ہاتھوں فروخت امریکی حکومت نے اس لئے رک دی کہ یہ حساس کمپنیاں ہیں۔ ۵) دیکھنا یہ بھی پڑتا ہے کہ غریب ممالک کے سارے کاروبار پر اگر ایسٹ انڈیا کمپنی جیسے بیرونی غاصبوں کا قبضہ ہوجائے تو وہ ملکوں کی سیاسی آزادی بھی سلب کر سکتے ہیں۔

۶) آخر ی نقطہ یہ دیا جاتا ہے کہ جو جمہوری حکومتیں For the People ہوتی ہیں وہ چترال اور سکردو جیسے سیکٹروں پر غریب لوگوں کیلئے سستے ہوائی ٹکٹ اور لنڈی کوتل ،کوہاٹ ، چمن، نارووال اور چکوال جیسے علاقوں تک رسائی کیلئے خسارے پر بھی ریل گاڑیاں چلا دیتی ہیں۔ یہ ادارے اگر نجی سیکٹر میں چلے گئے تو روپے سے محبت کرنیوالے کاروباری لوگ غریب عوام کی ہڈیوں سے گوشت بھی نوچ کر کھا لینگے۔ پاکستان میں سر کاری اداروں کی نہائت تکلیف دہ تباہ حالی کی بڑی وجوہات کچھ یوں ہیں۔

۱) گزشتہ ادوار میں مرکز میں کرپٹ قیادت کی موجودگی جس کی وجہ سے سرکاری اداروں میں میرٹ کے بغیر غیر موذوں لوگ فرنٹ مین کے طور پر تعینات ہوئے۔ ۲) اداروں میں نالائق لوگوں کی تقریباً سو فیصدی سیاسی بھرتیاں ہوئیں۔ ۳) لیبر یونینزکی صفوں میں اداروں کے باہرسے آئے ہوئے 25 فیصدی غیر مخلص لوگوں کی شمولیت نے اداروں میں لوٹ مار کا بازارگرم رکھا ۔ ۴) پلانٹس، جہازوں اور ریلوے انجنوں کی مرمت میں تاخیر بھی تباہی کا سبب بنی۔ ۵) مقابلے کی سپرٹ کا فقدان اداروں کو لے ڈوبا ۔

مذکورہ بالا قباحتوں کی وجہ سے سٹیل ملز 80 ارب روپے کی مقروض ہو چکی ہے۔ پی آئی اے کا سالانہ خسارہ 305ملین ڈالرز ہے اور پچھلے پانچ سالوں میں 100ارب روپے کے قرضوں کے نیچے دب چکی ہے۔ ایک جہاز کو Maintain رکھنے کیلئے اگر بین الاقوامی معیار کے مطابق 120 ملازمین درکار ہیں تو پی آئی اے میں فی جہاز 552ملازمین تنخواہیں لے رہے ہیں۔ آج پی آئی اے کو تقریباً 70 جہازوں کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت پی آئی اے کے پاس صرف 42جہاز ہیںجن میں سے صرف 21قابل پرواز ہیں۔

ریلوے کی حالت بھی اتنی ہی خراب ہے۔ 2003میں 69ناقص انجن درآمد ہوئے۔ 465 انجنوں میں سے صرف 50قابل استعمال بتائے جاتے ہیں۔ پندرہ ہزار گڈزویگینز بے کار کھڑی ہیں۔ ریلوے کے بڑے بڑے Bridges میں سے 86فیصد ایسے ہیں جو 100سال سے بھی زیادہ پرانے ہونے کی بدولت اپنی زندگی پوری کر چکے ہیں۔

کورس کے شرکاءنے جب مجھ سے سٹیل ملز اور پی او ایف کی میری موجودگی میں کامیابی کا راز پوچھا تو میں نے غرض کیا کہ اپنے رزق کوحلال کرنے کیلئے محنت، ٹیم ورک، میرٹ، شفافیت، ISO سرٹیفیکیشن، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل سے رضاکارانہ Integrity Pact، سٹیل ملز کی روزانہ کی پیداوار، اسکی فروخت سے متعلق ضروری معلومات اور اس دن کے ریٹس سب کچھ

 ہر روز شام کو انٹرنیٹ پر پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دئیے جاتے تھے۔ حدید ویلفیئر ٹرسٹ کا قیام، ورکرز کے لئے بونس اور صاف ستھری رہائشی سہولتوں کے انتظام نے بھی کارپوریشن کے وقار کو بلند کیا ۔ آج اگر حالات دگرگوں ہیں تو ذمہ دار بھی ہم خود ہیں۔ شاعر نے بالکل ٹھیک کہاتھا۔

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

کچھ باغبان ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے