احتجاج کی قیمت

احتجاج کی قیمت
تحریر :ارشد وحید چودھری
وہ پمز)پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائسنز(اسالم آباد کی
ایمرجنسی میں اسٹریچر کے ساتھ بیٹھا آنسؤوں سے تر آنکھوں
کے ساتھ اپنے ہاتھ کی لکیروں میں اپنی ماں کو تالش کر رہا تھا
۔آنسوؤں سے دھندلے ہو جانے والے چشمے کے شیشوں سے
پار اپنے ہاتھ پر کندہ آڑھی ترچھی لکیروں میں اس شفیق ہستی
کو ڈھونڈ رہا تھا کہ جس کے ساتھ صرف چند لمحے پہلے گاڑی
میں بیٹھے وہ اپنے مستقبل کے لیے منصوبہ سازی کر رہا
تھا۔اپنی مہرباں ماں کو بتا رہا تھا کہ اس کی ہاؤس جاب مکمل ہو
چکی ہے اور اب وہ کسی اچھے اسپتال میں بطور ڈاکٹر مالزمت
شرع کر کے زندگی کا ایک نیا سفر شروع کرے گا۔۔ لیکن
صرف چند لمحوں بعد ہی اب وہ اسٹریچر پر سفیر چادر
اوڑھے لیٹی اپنی ماں کے پاؤں سے لپٹا اپنی جنت کے کھو
جانے پر ماتم کناں تھا۔میںنے دالسا دینے کے لیے اس کے
کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن زبان نے الفاظ کا ساتھ نہ دیا اور
میںسلمان انور کو روتا چھوڑ کر پل بھر میں زندگی سےروٹھ
جانے والی اس کی والدہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کاؤنٹر کی
طرف چال گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ اتنا اچانک
ہوا تھا کہ مجھے جہاں زندگی کی بے ثباتی کا یقین ہو گیا وہیں
اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کا درس بھی مال ۔ الہور کے رہائشی سلمان انور نے راولپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس
کیا اور وہیں متصل اسپتال سے ہاؤس جاب مکمل کی۔ وہ اپنے
ہاسٹل سے اپنی چیزیں سمیٹنے اپنی والدہ کے ساتھ الہور
سےاسالم آباد آیا تھا اور شہر میں کچھ کام نمٹانے کے بعد
راولپنڈی میڈیکل کالج جا رہا تھا کہ فیصل ایونیو پر واقع اوور
برج پر پہنچا تو اچانک ایک تیز رفتار گاڑی اس کی طرف بڑھی
اور ایک لمحے میں اس کی کائنات اس سے چھن گئی۔پشاور
چرچ میں ہونے والے دھماکے کے خالف مسیحی آبادی نے
جہاں اسالم آباد ہائی وے کو بالک کیا،ٹائرز جالئے گاڑیوں پر
پتھراؤ کیا ان کے شیشے توڑے وہیں اسالم آباد شہر میں مسیحی
برادری کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے پمز کے سامنے فیصل
ایونیو پر واقع فالئی اوور پر جمع ہونا شروع ہوئے تو زیرو
پوائنٹ سے فیصل مسجد کی طرف جانے والی ٹریفک کے لیے
راستہ بالک ہو گیا ۔کچھ گاڑیاں یو ٹرن لے کر واپس زیرو پوانٹ
کی طرف مڑ گئیں تو کچھ ون وے کی خالف ورزی کرتے ہوئے
فالئی اوور کے دائیں سائیڈ پر فالئی اوور کی طرف بڑھنے لگیں
،احتجاجی مظاہرین کی وجہ سے میں بھی گاڑی موڑ ہی رہا تھا
کہ فالئی اوور کے اوپر گاڑیوں کے ٹکرانے کی زور دار آواز
کے ساتھ ہی حادثے کے مناظر نظر آئے۔میں جلدی سے حادثے
والی جگہ پہنچا تو دیکھا دو گاڑیاں بری طرح ٹکرانے کے باعث
تباہ ہو چکی تھیں جبکہ ایک گاڑی سے ایک نیم بےہوش خاتون
کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔خاتون کے ساتھ حواس باختہ دو لڑکے چیخ چیخ کر لوگوں سے گاڑی النے کا کہ
رہے تھے۔میں فوری واپس پلٹا اور گاڑی ال کر زخمی خاتون کو
ان لڑکوں کی مدد سے گاڑی میں ڈال کر پمز اسپتال پہنچایا ۔اس
دوران معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک زخمی خاتون کا بیٹا سلمان
انور اور دوسرا میری طرح راہگیر تھا۔سلمان کے ہونٹ سے بھی
خون بہ رہا تھا لیکن وہ مسلسل اپنی ماں کا گال تھپھتپا رہا
تھا،اس کی رندھی ہوئی آواز بمشکل نکل پا رہی تھی کہ امی آپ
کو کچھ نہیں ہو گا،امی آپ ابھی ٹھیک ہو جائیں گی۔ ماں کی
زندگی لیے پمز کی ایمجرنسی پہنچے تو اسٹریچرز کی عدم
دستیابی کے باعث وہاں موجود لوگوں کی مدد سے انہیں گاڑی
سے نکاال، اٹھا کراندر بھاگے اور اسٹریچر پر لٹا دیا۔ڈیوٹی پر
موجود لیڈی ڈاکٹرز نے نبض دیکھی لیکن وہ معدوم ہو چکی
تھی، انہوں نے اسٹیتھو اسکوپ سے دل کی دھڑکن تالش کرنا
چاہی لیکن مایوسی کے آثار نمایاں تھے۔لیڈی ڈاکٹر نے ہماری
طرف دیکھ کر آئی ایم سوری۔۔شی از نو مور۔۔ کے الفاظ ادا کئے
تو میرے ساتھ کھڑے خاتون کے بیٹے سلمان انور کا دکھ پہاڑ
جتنا ہو گیا اس نے ڈاکٹرز سے التجا کی کہ پلیز اچھی طرح
دیکھیں ،ای سی جی مشین سے چیک کریں اس کی ماں اسے
ایسے اچانک چھوڑ کر نہیں جا سکتی لیکن انہونی ہو چکی
تھی۔ڈاکٹرز اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکنے کی
تصدیق کر چکی تھی۔ چند لمحے پہلے ممتا کی شفقت کے ساتھ
سفر کرنے واال سلمان انور بغیر کچھ کہے اور سنے اچانک خاموش ہوجانے والی ماں کے چہرے پر سفیر چادڑ ڈالے بوجھل
قدموں اور ٹوٹے دل کے ساتھ اسٹریچر کو دھکیلتا ہال میںلے آیا
جہاں وہ ایک لمحے کو رکا اور اس نے مجھے کندھوں سے پکڑ
کر جھنجوڑتے ہوئے سوال کیا کہ پشاورچرچ میں ہونے والے
خود کش حملوں سے اس کا کیا تعلق تھا۔۔ان دھماکوں کے خالف
ہونے والے مسیحی برادری کے احتجاج کی قیمت اس کو اپنی
عظیم ہستی کو کھونے کی صورت میں کیوں چکانی پڑی ہے۔وہ
جس ماں کو اپنے ساتھ والی سیٹ پر بٹھا کر الیا تھا اب اسے
ایمبولینس میں کیسے لے کر جائے گا۔اس کی ہچکی بندھ چکی
تھی لیکن میرے پاس اس کے ان سوالوں کا کوئی جواب نہ تھا۔
پولیس کے نمائندے ابتدائی کاروائی کے لئے پہنچ گئے تھے اور
مطلوبہ معلومات کو تحریری شکل دینے کے بعد اسپتال انتظامیہ
کی طرف سے ڈیٹھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔سلمان انور کو
ماں کی میت کے ساتھ الہور روانہ کرنے کے بعد پمز سے
پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے واقع جیو نیوز کے دفتر جانے کے
لئے نکال تو کلثوم پالزہ چوک کو بھی بیرئیرز لگا کر بند کر دیا
گیا تھا اور ٹریفک کو متبادل راستے پر موڑا جا رہا تھا جبکہ
بیرئیرز کے دوسری طرف مسیحی برادری کے افراد سراپا
احتجاج تھے تب میرا دل چاہا کہ احتجاج کرنے والے ان مسیحی
بھائیوں کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ ان کے اس احتجاج نے کیسے
ہستے بستے ایک گھر کو پل بھر میں اجاڑ دیا ہے۔انہیں بتاؤں
کہ ان کے پیغمبر حضرت یسوع مسیح نے تو امن وآشتی کا درس دیا ہے پھر وہ مشتعل ہو کر اور توڑ پھوڑ کر کے کیوں ایسے
عناصر کو موقع دے رہے ہیں جن کا اصل ہدف ہی تفرقہ بازی
کو ہوا دینا اور بین المزاہب آہنگی کو نقصان پہنچانا
ہے۔انہیںبتاؤں کہ دہشت گردی کی اس آگ میں 04 ہزار بے گناہ
اور معصوم افراد سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 5
ہزار جوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ملک کے دشمن ان
عناصر کے خالف ہمیں زبان، رنگ، نسل اور مذہب سے باال تر
ہو کر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔احتجاج کرنا متاثرین کا حق
ہے لیکن یہ احتجاج پر امن ہونا چاہئیے ،اس دوران قانون کو ہاتھ
میں لینے کی کوشش ہر گز نہیں ہونی چاہئیے اور احتجاج ایسی
جگہ کیا جائے جس سے دیگر لوگ متاثر نہ ہوں ورنہ اگر اپنے
ساتھ ہونےو الی حق تلفی کے لئے آواز اٹھاتے ہوئے پرتشدد کا
راستہ اختیار کیا جائے گا تو ہم نصرت انور جیسی نہ جانے
کتنی اورماؤں کو کھو دیں گے جن کی دعاؤں سے یہ نگر آباد
ہے اور سلمان انور جیسے بیٹوں کو کوئی جواب نہ دے پائیں
گے کہ آخر ان کا قصور کیا تھا۔
تحریر:ارشد وحید چودھری
سینئر کارسپونڈنٹ جیو نیوز اسالم آباد
رابطہ نمبر:40475248030